السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. -- باب: المسح على العمامة مع الرأس
-- باب: سر کے ساتھ عمامے پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 280
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ قَالَ:" أَمَعَكَ مَاءٌ؟". فَأَتَيْتُ بِمَطْهَرَةٍ، فَغَسَلَ بِيَدَيْهِ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، كَمَا تَقَدَّمَ ذِكْرِي لَهُ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہ گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حاجت پوری کر لی تو فرمایا: ”کیا تیرے پاس پانی ہے؟“ میں پانی کا ایک برتن لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر اپنے چہرے کو دھویا، پھر اپنے بازوؤں کو نکالنا شروع کیا تو جبے کی آستین تنگ ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبے کے نیچے سے ہاتھوں کو نکالا اور جبے کو اپنے کندھوں پر ڈال دیا، پھر اپنے بازوؤں کو دھویا اور اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا، پھر (سواری پر) سوار ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 280]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 274»
الحكم على الحديث: صحيح