السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. -- باب: فضيلة الوضوء
-- باب: وضو کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 381
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَبَكْرُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، ح. قَالَا: وَحَدَّثَنَا أَبُو ⦗١٣١⦘ الْعَبَّاسِ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ (نکل جاتا ہے)، اور جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس کے ہاتھوں نے کیا، پانی کے ساتھ یا فرمایا: پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، اور جب وہ اپنے پاؤں کو دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس کے پاؤں نے کیا، پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، حتیٰ کہ وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو کر نکلتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 381]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 244»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 382
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِي قُدُومِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، ثُمَّ قُدُومِهِ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْوضُوءُ؟ حَدِّثْنِي عَنْهُ، قَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَقْرَبُ وَضُوءَهُ، فَيُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ، فَيَنْثُرُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا فِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ عِكْرِمَةَ:" ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ". وَلَمْ يذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الذُّهْلِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَاحْتَجَّ بِهِ فِي وَجُوبِ غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ.
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ نے مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے آنے اور پھر مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کے متعلق طویل حدیث ذکر کی، وہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وضو کیا ہے؟ مجھے بتلائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان پانی اپنے قریب کرتا ہے، اس کے بعد کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی چڑھاتا ہے، پھر ناک جھاڑتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے منہ اور ناک کے بانسے سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنا چہرہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا تو پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے اطراف اور داڑھی سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کی انگلیوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر سر کا مسح کرتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر ٹخنوں تک اپنے قدموں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے پاؤں کی انگلیوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہے اور اس کی ایسی بزرگی بیان کرتا ہے جس کا وہ اہل ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کر دیتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے آج ہی اس کی والدہ نے اس کو جنم دیا ہے۔“
(ب) عکرمہ سے روایت ہے کہ پھر آپ نے اپنے قدموں کو ٹخنوں تک دھویا جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا۔ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر کا ذکر نہیں ہے۔
(ج) محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ نے اسے محمد بن یحییٰ ذہلی کے واسطے سے ابو ولید سے روایت کیا ہے اور اس سے پاؤں دھونے کے واجب ہونے کی دلیل لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 382]
(ب) عکرمہ سے روایت ہے کہ پھر آپ نے اپنے قدموں کو ٹخنوں تک دھویا جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا۔ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر کا ذکر نہیں ہے۔
(ج) محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ نے اسے محمد بن یحییٰ ذہلی کے واسطے سے ابو ولید سے روایت کیا ہے اور اس سے پاؤں دھونے کے واجب ہونے کی دلیل لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 382]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 832»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 383
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مَنْ يدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ الْخَطَايَا مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: يَرْوِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ وَيُقَالُ: أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَالصُّنَابِحِيُّ صَاحِبُ أَبِي بَكْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ، وَالصُّنَابِحِيُّ صَاحِبُ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ يُقَالُ لَهُ: الصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ، كَذَا قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ. وَزَعَمَ الْبُخَارِيُّ أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ وَهِمَ فِي هَذَا، وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو عَبْدِ اللهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ الصُّنَابِحِيُّ لَمْ يسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقَدْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ: وَتَابَعَهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ زَيْدٍ. وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، عَنْ مَالِكٍ، فَقَالَ: عَنِ الصُّنَابِحِيِّ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَاحْتَجَّ بِآثَارٍ ذَكَرَهَا عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ فِيهِ كَمَا قَالَ.
سیدنا عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں اور جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کے ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کی پلکوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے کانوں کے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے قدموں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور نماز ادا کرنا اس کے لیے اجر و ثواب میں زیادتی کا باعث ہے۔“
(ب) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء بن یسار، عبداللہ صنابحی سے روایت کرتے ہیں اور انہیں ابو عبداللہ بھی کہا جاتا ہے، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے صنابحی عبدالرحمن بن عسیلہ ہیں، اور جن صنابحی سے قیس بن ابی حازم روایت کرتے ہیں انہیں صنابح بن اعسر کہا جاتا ہے، یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے اسی طرح کہا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ اس میں مالک بن انس رحمہ اللہ کو وہم ہوا ہے، وہ تو ابو عبداللہ عبدالرحمن بن عسیلہ صنابحی ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور عبدالرحمن وہی ہیں جنہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور صنابح بن اعسر رضی اللہ عنہ صحابیٔ رسول ہیں۔ امام احمد (بیہقی) رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے تاریخ میں مالک بن انس رحمہ اللہ کی حدیث سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے، پھر فرمایا: ابن ابی مریم نے ابو غسان سے، انہوں نے زید سے اس کی متابعت کی ہے۔ اور اسحاق بن عیسیٰ بن طباع نے اسے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کیا تو کہا: صنابحی ابو عبداللہ سے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کچھ آثار ذکر کر کے ان سے دلیل لی ہے کہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسا انہوں نے کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 383]
(ب) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء بن یسار، عبداللہ صنابحی سے روایت کرتے ہیں اور انہیں ابو عبداللہ بھی کہا جاتا ہے، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے صنابحی عبدالرحمن بن عسیلہ ہیں، اور جن صنابحی سے قیس بن ابی حازم روایت کرتے ہیں انہیں صنابح بن اعسر کہا جاتا ہے، یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے اسی طرح کہا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ اس میں مالک بن انس رحمہ اللہ کو وہم ہوا ہے، وہ تو ابو عبداللہ عبدالرحمن بن عسیلہ صنابحی ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور عبدالرحمن وہی ہیں جنہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور صنابح بن اعسر رضی اللہ عنہ صحابیٔ رسول ہیں۔ امام احمد (بیہقی) رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے تاریخ میں مالک بن انس رحمہ اللہ کی حدیث سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے، پھر فرمایا: ابن ابی مریم نے ابو غسان سے، انہوں نے زید سے اس کی متابعت کی ہے۔ اور اسحاق بن عیسیٰ بن طباع نے اسے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کیا تو کہا: صنابحی ابو عبداللہ سے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کچھ آثار ذکر کر کے ان سے دلیل لی ہے کہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسا انہوں نے کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 383]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 4/349»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 384
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، وَأَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: نا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ مِنْ أَفْضَلِ قَالَ أَبُو بَدْرٍ: مِنْ خَيْرِ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ، وَلَنْ يحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا» ”سیدھے رہو، اور تم (اس کا پورا) احاطہ ہرگز نہیں کر سکو گے،“ «وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ» ”اور جان لو کہ تمہارے افضل اعمال میں سے نماز ہے۔“ ابو بدر نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ ”تمہارے اعمال میں سے بہتر نماز ہے اور وضو پر محافظت صرف مومن کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 384]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه 277»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره