🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

104. -- باب: الرخصة في ذلك في الأبنية
-- باب: عمارتوں کے اندر ایسا کرنے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 435
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ: إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ فَلَا تَسْتَقْبَلِ الْقِبْلَةَ وَلَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ. قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلًا بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے تھے: ”جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلہ اور بیت المقدس کی طرف منہ نہ کرو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو اینٹوں پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کیے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 435]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 145»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، أنا عَبْدُ اللهِ هُوَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
مالک رحمہ اللہ اسی سند سے بیان فرماتے ہیں۔ (صحیح) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 436]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، أنا يَحْيَى، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حِبَّانَ أَخْبَرَهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" لَقَدْ رَقِيتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ لِحَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلًا الشَّامِ مُسْتَدْبِرًا الْقِبْلَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ شام کی طرف اور کمر قبلہ کی طرف کی ہوئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 437]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 145»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 438
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةِ، ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا؟ قَالَ:" بَلَى، إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ، فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُكَ فَلَا بَأْسَ" ⦗١٥٠⦘.
مروان اصفر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اپنی سواری قبلہ کی طرف بٹھائی، پھر بیٹھ کر پیشاب کیا۔ میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا؟ تو انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں! کھلی جگہ میں اس سے منع کیا گیا ہے، لیکن جب تیرے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز ہو جو تجھ کو ڈھانپ دے (یعنی کوئی پردہ ہوجائے) تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 11»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنا أَبُو دَاودَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
صفوان بن عیسیٰ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 11»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَوْكَرٍ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، نا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَدْبِرَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ، ثُمَّ قَدْ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةِ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ" بِعَامٍ" وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاودَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَفِيهِ: فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو منع کیا کرتے تھے کہ ”ہم قبلہ کی طرف منہ کریں یا اپنی شرمگاہوں کے ساتھ قبلہ کی طرف پشت کریں، جب ہم پانی بہائیں (یعنی پیشاب کریں)“، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے ایک سال پہلے قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔
(ب) سنن ابوداؤد میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے آپ کی روح قبض ہونے سے ایک سال پہلے دیکھا کہ آپ قبلہ کی جانب منہ کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 440]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 11»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلَافَتِهِ وَعِنْدَهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ وَلَا اسْتَدْبَرْتُهَا بِبَوْلٍ وَلَا غَائِطٍ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ عِرَاكٌ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُ النَّاسِ فِي ذَلِكَ أَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ، فَاسْتَقْبَلَ بِهَا الْقِبْلَةَ" تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ فِي إِقَامَةِ إِسْنَادِهِ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عَائِشَةَ.
خالد بن ابو صلت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس تھا اور ان کے پاس عراک بن مالک رحمہ اللہ بھی تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اتنے عرصہ سے میں نے پیشاب اور قضائے حاجت کرنے کے لیے نہ قبلہ کی طرف رخ کیا ہے اور نہ ہی پیٹھ۔“ عراک رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں لوگوں کی بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قضائے حاجت کی نشست کو قبلہ کی طرف کرنے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 441]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد 6/184»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، قَدِمَ عَلَيْنَا قَصَبَةَ خِسْرُوجِرْدَ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنا عَبْدِ الْمَلِكِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بِصُورٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْحَلَبِيُّ، نا حَاتِمٌ، عَنْ عِيسَى الْخَيَّاطِ، قَالَ: قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: وَأَنَا أَعْجَبُ مِنَ اخْتِلَافِ أَبِي ⦗١٥١⦘ هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" دَخَلْتُ بَيْتَ حَفْصَةَ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ، فَرَأَيْتُ كَنِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوا، اچانک نظر پڑی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیت الخلاء کا منہ قبلہ کی طرف دیکھا۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تم سے کوئی قضائے حاجت کو آئے تو وہ اپنا منہ اور پیٹھ قبلہ کی طرف نہ کرے۔“
(ج) شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: دونوں نے سچ کہا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول صحرا کے بارے میں ہے کہ بلاشبہ اللہ کے بندے فرشتے اور جن نماز ادا کرتے ہیں، تو صحرا میں قضائے حاجت اور پیشاب کرتے وقت ان کی طرف منہ نہ کیا کریں اور نہ ہی پیٹھ کریں اور ان کے بیت الخلاء گھر ہیں جن میں قبلہ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 442]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں