السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
107. -- باب: الاستتار عند قضاء الحاجة
-- باب: قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 446
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ:" أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ" يَعْنِي حَائِطَ نَخْلٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایک پوشیدہ بات کی، وہ بات میں لوگوں سے بیان نہیں کروں گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کے لیے کسی رکاوٹ (پتھر وغیرہ) سے یا کھجوروں کے باغ میں چھپ جانا بہت پسند تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 446]
تخریج الحدیث: «صحيح أخرجه مسلم 242»
الحكم على الحديث: صحيح أخرجه مسلم 242
حدیث نمبر: 447
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي مَسْجِدِهِ، فَذَكَرَ قِصَّتَهُ قَالَ: فَقَالَ جَابِرٌ: فَذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقْضِي حَاجَتَهُ فَاتَّبَعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَتَسَتَّرُ بِهِ، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِيءِ الْوَادِي، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ:" انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى". فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ، حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرَى، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ:" انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى". فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْمَنْصَفِ فِيمَا بَيْنَهُمَا لَأَمَ بَيْنَهُمَا يَعْنِي جَمَعَهُمَا فَقَالَ:" الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى". ⦗١٥٣⦘ فَالْتَأَمَتَا. قَالَ جَابِرٌ: فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ، وَإِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ، وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پانی کا ایک ڈول لے کر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی چیز نہ دیکھی جس کی اوٹ میں چھپ جائیں، وادی کے کنارے پر دو درخت تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کی طرف گئے اور اس کی ایک ٹہنی پکڑ کر فرمایا: ”اللہ کے حکم پر میری مطیع بن جا۔“ تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسے مطیع ہوگئی جیسے تابع اونٹ ہوتا ہے جو اپنے قائد کے ساتھ چلا کرتا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ایک ٹہنی کو پکڑ کر فرمایا: ”اللہ کے حکم کے ساتھ میرے لیے مطیع ہوجا۔“ تو وہ بھی اسی طرح مطیع ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ملاتے ہوئے ان سے کہا: ”تم دونوں مجھ پر اللہ کے حکم سے متحد و متفق ہو جاؤ۔“ تو وہ دونوں جڑ گئیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ کر اپنے آپ سے باتیں کررہا تھا، میں نے ایک نظر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچانک سامنے تھے اور درخت الگ الگ ہوگئے تھے اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 447]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 2/3»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 448
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَعَمْرُو بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: نا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ يَجْمَعُهُ، ثُمَّ يَسْتَدْبِرُهُ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ يَلْعَبُونَ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو قضائے حاجت کو جائے تو وہ چھپ جائے۔ اگر کوئی چیز نہ پائے تو ریت کا ایک ٹیلہ اکٹھا کرے پھر اس کی طرف پیٹھ کرے؛ اس لیے کہ شیطان بنی آدم کی شرم گاہوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ جس نے ایسے کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 448]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 35»
الحكم على الحديث: ضعيف