السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
118. -- باب: كراهية الكلام عند الخلاء
-- باب: قضائے حاجت کے وقت بات چیت کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 482
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ". مُخَرَّجٌ فِي كِتَابِ مُسْلِمٍ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت پیشاب کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 482]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 115»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 483
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، أنا ابْنُ مَهْدِيٍّ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقُولُ:" لَا يَخْرُجُ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَيْنِ عَنْ عَوْرَتِهِمَا يَتَحَدَّثَانِ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ".
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دو شخص قضائے حاجت کو اس طرح نہ جائیں کہ ان کی شرمگاہیں کھلی (ننگی) ہوں اور وہ باتیں کر رہے ہوں، اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہوتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 483]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 15»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 484
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَرَّاقُ، أنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ عَقِيبَ هَاتَيْنِ الرِّوَايَتَيْنِ: هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، هَذَا الشَّيْخُ هُوَ عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ، رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ غَيْرَ حَدِيثٍ، وَأَحْسَبُ الْوَهْمَ فِيهِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ حِينَ قَالَ: عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَلَمْ يُسْنِدْهُ إِلَّا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ.
عیاض بن ہلال رحمہ اللہ سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔
(ب) ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ یہ دو روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہی صحیح ہے اور وہ عیاض بن ہلال ہیں، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ نے حدیث نقل کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہلال بن عیاض سے روایت کرنا عکرمہ بن عمار کا وہم ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے عکرمہ بن عمار کے سوا کسی نے مسند بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 484]
(ب) ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ یہ دو روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہی صحیح ہے اور وہ عیاض بن ہلال ہیں، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ نے حدیث نقل کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہلال بن عیاض سے روایت کرنا عکرمہ بن عمار کا وہم ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے عکرمہ بن عمار کے سوا کسی نے مسند بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/260»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 485
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حَمْشَاذٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/260»
الحكم على الحديث: ضعيف