🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

123. -- باب: التوقي عن البول
-- باب: پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ:" إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ". وَقَالَ وَكِيعٌ: لَا يَتَوَقَّى قَالَ: فَدَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ، فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ، ثُمَّ غَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا، ثُمَّ قَالَ:" لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْهُمَا الْعَذَابَ مَا لَمْ يَيْبَسَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَغَيْرِهِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنْ وَكِيعٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی چیز کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان میں سے ایک چغل خور تھا اور دوسرا اپنے پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔“ وکیع کہتے ہیں: پرہیز نہیں کرتا تھا۔ راوی کہتا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تر و تازہ ٹہنی منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کیے، پھر ایک کو ایک قبر پر اور دوسری کو دوسری پر گاڑ دیا، پھر فرمایا: ”شاید اللہ تعالیٰ ان دونوں سے عذاب کو ہلکا کر دے جب تک یہ خشک نہ ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 508]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 213»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا الْأَعْمَشُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ ٠ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرَ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ أَوْ شِبْهُ الدَّرَقَةِ فَجَلَسَ فَاسْتَتَرَ بِهَا، فَبَالَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَقُلْتُ أَنَا وَصَاحِبِي: انْظُرْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ وَهُوَ جَالِسٌ؟ فَأَتَانَا، فَقَالَ:" أَمَا عَلِمْتُمْ مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانَ إِذَا أَصَابَ أَحَدًا مِنْهُمْ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضَهُ بِالْمِقْرَاضِ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ".
سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما چلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ڈھال یا ڈھال نما کوئی چیز تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ کیا اور بیٹھنے کی حالت میں پیشاب کیا۔ میں اور میرے ساتھی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو کیسے پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک آدمی کو کیا پیش آیا؟ جب ان میں سے کسی کو پیشاب وغیرہ لگ جاتا تو وہ اس کو قینچیوں سے کاٹ دیتے تھے، اس آدمی نے انہیں اس سے منع کیا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 22»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں