السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
149. -- باب: ترك الوضوء من مس الفرج بظهر الكف
-- باب: ہاتھ کی پشت سے شرمگاہ کو چھونے سے وضو ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 651
أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ الْحَسَنُ فَأَقْبَلَ يَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ عَنْ قَمِيصِهِ، وَقَبَّلَ زَبِيبَتَهُ". ⦗٢١٦⦘ فَهَذَا إِسْنَادُهُ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهُ مَسَّهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لوٹ پوٹ ہونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قمیص اٹھائی اور ان کی شرمگاہ کا بوسہ لیا۔
اس کی سند قوی نہیں ہے اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ سے چھوا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 651]
اس کی سند قوی نہیں ہے اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ سے چھوا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف