السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
166. -- باب: الانتضاح بعد الوضوء لرد الوسواس
-- باب: وسوسہ دور کرنے کے لیے وضو کے بعد پانی چھڑکنے کا بیان
حدیث نمبر: 752
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَوِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا بَالَ تَوَضَّأَ وَيَنْتَضِحُ". كَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَمَعْمَرٌ، وَزَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ.
سفیان بن حکم یا حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے اور چھینٹے مارتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 752]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 166»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 753
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ أَوْ أَبُو الْحَكَمِ، مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَانْتَضَحَ بِهَا". ⦗٢٥٠⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وَهَيْبٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ مُسْنَدًا وَلَمْ يَذْكُرُوا أَبَاهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: الصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعْبَةُ، وَوُهَيْبٌ، وَقَالَا: عَنْ أَبِيهِ وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ فَمَرَّةً ذَكَرَ فِيهِ أَبَاهُ، وَمَرَّةً لَمْ يَذْكُرْهُ.
(الف) مجاہد رحمہ اللہ بنو ثقیف کے ایک حکم یا ابو الحکم نامی شخص سے روایت کرتے ہیں جو اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک چلو لیا اور چھینٹے مارے۔“
(ب) مجاہد حکم یا ابوالحکم بن سفیان ثقفی سے مسند کے ساتھ نقل فرماتے ہیں، لیکن یہاں انہوں نے ان کے والد کا ذکر نہیں کیا۔
(ج) مجاہد حکم بن سفیان سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ان کے والد کا نام ذکر نہیں کیا۔
(د) امام ابو عیسیٰ (ترمذی) نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”شعبہ اور وہیب «عَنْ أَبِيهِ» ”اپنے والد سے“ والی روایت صحیح ہے۔“ ابن عیینہ بھی اس حدیث میں «عَنْ أَبِيهِ» ”اپنے والد سے“ بیان کرتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابن عیینہ منصور سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اس میں ان کے والد کا ذکر کیا اور دوسری مرتبہ ذکر نہیں کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 753]
(ب) مجاہد حکم یا ابوالحکم بن سفیان ثقفی سے مسند کے ساتھ نقل فرماتے ہیں، لیکن یہاں انہوں نے ان کے والد کا ذکر نہیں کیا۔
(ج) مجاہد حکم بن سفیان سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ان کے والد کا نام ذکر نہیں کیا۔
(د) امام ابو عیسیٰ (ترمذی) نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”شعبہ اور وہیب «عَنْ أَبِيهِ» ”اپنے والد سے“ والی روایت صحیح ہے۔“ ابن عیینہ بھی اس حدیث میں «عَنْ أَبِيهِ» ”اپنے والد سے“ بیان کرتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابن عیینہ منصور سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اس میں ان کے والد کا ذکر کیا اور دوسری مرتبہ ذکر نہیں کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 753]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه النسائي 134»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 754
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَالَ، ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَهُ" رَوَاهُ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، هَكَذَا وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" ثُمَّ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ".
مجاہد قبیلہ ثقیف کے ایک شخص سے، جو اپنے والد سے نقل کرتا ہے، نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشاب کرتے ہوئے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شرم گاہ پر چھینٹے مارے۔
(ب) منصور اور ابن ابی نجیح رحمہما اللہ اس حدیث کو بیان کر کے فرماتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور شرم گاہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 754]
(ب) منصور اور ابن ابی نجیح رحمہما اللہ اس حدیث کو بیان کر کے فرماتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور شرم گاہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 754]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 167»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 755
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْحَكَمٍ أَوْ أَبِي الْحَكَمِ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ".
حکم یا ابو الحکم اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنی شرم گاہ پر چھینٹے مارے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 755]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 168»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 756
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ مَا أُوحِيَ إِلَيْهِ فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ، أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ فَرْجَهُ".
سیدنا اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جب پہلی دفعہ وحی کی گئی تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو سکھلایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، جب (وضو سے) فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پانی لیا اور اپنی شرم گاہ پر چھینٹے مارے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 756]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه احمد 3/2»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 757
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَقَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ وَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً وَنَضَحَ". قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: قَوْلُهُ وَنَضَحَ تَفَرَّدَ بِهِ قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سُفْيَانَ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور ایک ایک مرتبہ وضو کیا (یعنی اعضاء ایک ایک مرتبہ دھوئے) اور چھینٹے مارے۔“
(ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «نَضْح» کے الفاظ سفیان سے بیان کرنے میں قبیصہ متفرد ہے، ایک جماعت نے اس حدیث کو سفیان سے اس زیادتی کے بغیر روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 757]
(ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «نَضْح» کے الفاظ سفیان سے بیان کرنے میں قبیصہ متفرد ہے، ایک جماعت نے اس حدیث کو سفیان سے اس زیادتی کے بغیر روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 757]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الدارمي 711»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 758
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْجُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، نا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، نا الْفُرَاتُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَجِدُ بَلَلًا إِذَا قُمْتُ أُصَلِّي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ⦗٢٥١⦘ انْضَحْ بِكَأْسٍ مِنْ مَاءٍ، وَإِذَا وَجَدْتَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَقُلْ هُوَ مِنْهُ"، فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أَتَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَزَعَمَ أَنَّهُ ذَهَبَ مَا كَانَ يَجِدُ مِنْ ذَلِكَ".
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور عرض کیا: میں تری کو پاتا ہوں جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پانی کے پیالے سے چھینٹے مار اور جب تو ایسی شکایت پائے تو سمجھ لے وہ اسی سے ہے (یعنی جو چھینٹے مارے ہیں)۔ وہ شخص چلا گیا جب تک اللہ نے چاہا، پھر کچھ عرصے بعد آیا۔ اس کا گمان یہ تھا کہ وہ چیز چلی گئی ہے جو وہ محسوس کرتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 758]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پانی کے پیالے سے چھینٹے مار اور جب تو ایسی شکایت پائے تو سمجھ لے وہ اسی سے ہے (یعنی جو چھینٹے مارے ہیں)۔ وہ شخص چلا گیا جب تک اللہ نے چاہا، پھر کچھ عرصے بعد آیا۔ اس کا گمان یہ تھا کہ وہ چیز چلی گئی ہے جو وہ محسوس کرتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 758]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف