🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

191. -- باب: غسل المرأة من الجنابة والحيض
-- باب: عورت کے جنابت اور حیض سے غسل کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 853
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مُطَرِّزٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَخْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ابْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَسْمَاءَ تَعْنِي بِنْتَ شَكَلٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ:" تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ، فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا الْمَاءَ، وَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً تَطَّهَّرُ بِهَا"، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟، قَالَ:" سُبْحَانَ اللهِ تَطَهَّرِي بِهَا وَاسْتَتِرِي" قَالَتْ عَائِشَةُ: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلَتْهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:" تَأْخُذِينَ مَاءَكِ فَتَطَهَّرِينَ أَحْسَنَ الطُّهُورِ وَأَبْلَغَهُ، ثُمَّ تَصُبِّينَ عَلَى رَأْسِكِ الْمَاءَ، ثُمَّ تَدْلُكِينَهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِكِ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ". وَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَسْأَلْنَ عَنِ الدِّينِ وَيَتَفَقَّهْنَ فِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ كَذَا فِي كِتَابِنَا شُئُونُ، وَأَهْلُ اللُّغَةِ يَقُولُونَ: سُورٌ أَوْ شِوًى، قَالُوا: سُورُهُ أَعْلَاهُ وِشوَاهُ جِلْدُهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل رضی اللہ عنہا نے حیض کے غسل کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بیری کے پتوں اور پانی کے ساتھ اچھی طرح طہارت حاصل کر، پھر اپنے سر پر پانی ڈال اور اچھی طرح اس کو مل یہاں تک کہ بالوں کے اندر پہنچ جائے، پھر اس پر پانی ڈال، پھر خوشبو لگا ہوا روئی کا پھایا لے اس سے طہارت حاصل کر۔“ فرماتی ہیں: میں نے کہا: میں اس سے کس طرح طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے!“ اس سے طہارت حاصل کر اور پردہ کر۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس کو خون کے نشان پر لگا اور اس نے جنابت کے غسل کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی لے اس سے اچھی طرح طہارت حاصل کر اور اس کو (اچھی طرح جلد تک) پہنچا، پھر اپنے سر پر پانی ڈال پھر اس کو مل یہاں تک کہ بالوں کے اندر تک پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی ڈال لے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بہترین عورتیں انصار کی عورتیں ہیں ان کو حیا نہیں روکتی کہ وہ دین کے متعلق سوال کریں اور اس کو سمجھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 853]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 332»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 854
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ صَدَقَةٍ، ثنا جَمِيعُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَخُو بَنِي تَيْمِ اللهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَتْهَا إِحِدَاهُمَا: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ ⦗٢٧٩⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ".
جمیع بن عمیر «أَخُو بَنِي تَيْمِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ» ”بنو تیم اللہ بن ثعلبہ کے بھائی“ ہیں، فرماتے ہیں کہ میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، ان دونوں میں سے ایک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ غسل کے وقت آپ کس طرح کرتی تھیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جیسا وضو کرتے تھے، پھر اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے تھے اور ہم اپنے سروں پر مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ مرتبہ پانی ڈالتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 854]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه ابو داؤد 241»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 855
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ قَالَ:" خَلِّلْهَا بِالْمَاءِ لَا تَخَلَّلْهَا نَارٌ قَلِيلٌ بُقْيَاهَا". رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ:" خَلِّلِي رَأْسَكِ بِالْمَاءِ، لَا تَخَلَّلْهُ نَارٌ قَلِيلٌ بُقْيَاهَا عَلَيْهِ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی سے خلال کرو، اگر خلال نہ کیا تو تھوڑی جگہ بھی آگ میں جانے کا سبب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 855]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدارمي 1148»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں