السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
195. -- باب: سقوط فرض الترتيب في الغسل
-- باب: غسل میں ترتیب کے فرض کے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: Q870
قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا} [المائدة: ٦] ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجُنُبِ فِي حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ:" اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ"، وَقَالَ فِي حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ:" فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ جِلْدَكَ" وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالتَّرْتِيبِ.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا﴾ ”اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو۔“ [سورة المائدة: 6]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جنبی شخص سے فرمایا تھا: ”جاؤ اور اسے (پانی کو) اپنے اوپر بہا لو۔“
اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں فرمایا: ”پس جب تم پانی پا لو تو اسے اپنی جلد تک پہنچاؤ۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (غسل میں) ترتیب کا حکم نہیں دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: Q870]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جنبی شخص سے فرمایا تھا: ”جاؤ اور اسے (پانی کو) اپنے اوپر بہا لو۔“
اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں فرمایا: ”پس جب تم پانی پا لو تو اسے اپنی جلد تک پہنچاؤ۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (غسل میں) ترتیب کا حکم نہیں دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: Q870]
حدیث نمبر: 870
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي بُدُوِّ جَنَابَتِهَ إِلَى أَنْ قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّعِيدُ الطِّيبُ وُضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَجٍ، فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيُمِسَّ بَشَرَهُ الْمَاءَ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ".
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کے وضو کا ذریعہ ہے، اگرچہ دس سال کرتا رہے اور جب پانی پائے تو اسے اپنے جسم پر بہائے، یہی بہتر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 870]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ