السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
222. -- باب: ذكر الروايات في كيفية التيمم عن عمار بن ياسر رضي الله عنه
-- باب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے تیمم کی کیفیت کے بارے میں مروی روایات کا ذکر
حدیث نمبر: 1001
أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" هَلَكَ عِقْدٌ لِعَائِشَةَ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ فِي سَفَرٍ مِنْ أَسْفَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَائِشَةُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ السَّفَرِ فَالْتَمَسَتْ عَائِشَةُ عِقْدَهَا حَتَّى انْتَهَى اللَّيْلُ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا، وَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ بِمَكَانٍ لَيْسَ فِيهِ مَاءٌ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى آيَةَ الصَّعِيدِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: أَنْتِ وَاللهِ يَا بُنَيَّةُ مَا عَلِمْتُ مُبَارَكَةٌ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: وَكَانَ عَمَّارٌ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّاسَ طَفِقُوا يَوْمَئِذٍ يَمْسَحُونَ بِأَكُفِّهِمُ الْأَرْضَ، فَيَمْسَحُونَ وُجُوهَهُمْ، ثُمَّ يَعُودُونَ فَيَضْرِبُونَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَمْسَحُونَ بِهَا أَيْدِيهِمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ، ثُمَّ يُصَلُّونَ" وَكَذَلِكَ. رَوَاهُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، وَجَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَمَّارٍ، وَحَفِظَ فِيهِ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ ضَرْبَتَيْنِ كَمَا حَفِظَهُمَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ظفار کے گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہو گیا اور اس سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار تلاش کیا حتیٰ کہ رات ختم ہو گئی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور ان سے ناراض ہوئے اور کہا: تو نے لوگوں کو ایسی جگہ پر روک دیا ہے جہاں پانی بھی نہیں ہے۔ راوی کہتا ہے کہ آیۃ الصعید (تیمم) نازل ہوئی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: اللہ کی قسم! اے بیٹی! جہاں تک میں جانتا ہوں تو بڑی بابرکت ہے۔ عبید اللہ کہتے ہیں کہ عمار بیان کرتے ہیں: لوگ اس دن اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارتے اور اپنے چہروں کا مسح کرتے تھے، پھر دوبارہ مارتے اور اپنے ہاتھوں کا کندھوں اور بغلوں تک مسح کرتے، پھر نماز پڑھتے تھے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں معمر اور یونس بھی دو ضربوں کا ذکر کرتے ہیں کہ ابن ابی ذئب نے دو ضربوں کا ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1001]
(ب) ایک دوسری روایت میں معمر اور یونس بھی دو ضربوں کا ذکر کرتے ہیں کہ ابن ابی ذئب نے دو ضربوں کا ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1001]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 320»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1002
وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْكَعْبِيُّ بِهَمَذَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ بُرْدَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا زَيْدٌ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" تَمَسَّحْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتُّرَابِ فَمَسَحْنَا وُجُوهَنَا وَأَيْدِيَنَا إِلَى الْمَنَاكِبِ" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَمَّا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فَإِنَّهُ شَكَّ فِي ذِكْرِ أَبِيهِ فِي إِسْنَادِهِ، رَوَاهُ مَرَّةً عَنِ ابْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَمَرَّةً عَنِ الزُّهْرِيِّ نَفْسِهِ، وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارٍ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں مٹی کے ساتھ مسح (تیمم) کیا، ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا۔
(ب) سفیان بن عیینہ اپنی سند میں ان کے والد کے ذکر کرنے کے متعلق شک کرتے ہیں، کبھی وہ «عَنِ ابْنِ دِينَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ» ”ابن دینار سے، وہ زہری سے“ بیان کرتے ہیں اور کبھی صرف «الزُّهْرِيِّ» ”زہری“ سے بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1002]
(ب) سفیان بن عیینہ اپنی سند میں ان کے والد کے ذکر کرنے کے متعلق شک کرتے ہیں، کبھی وہ «عَنِ ابْنِ دِينَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ» ”ابن دینار سے، وہ زہری سے“ بیان کرتے ہیں اور کبھی صرف «الزُّهْرِيِّ» ”زہری“ سے بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1002]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1003
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَرَّسَ بِأَوْلَاتِ الْجَيْشِ، وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدُهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ ⦗٣٢١⦘ عِقْدِهَا ذَلِكَ، حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةَ رُخْصَةِ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطِّيبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْأَرْضَ، ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ، وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ، وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَا يَغْتَرُّ بِهَذَا النَّاسِ. وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، قَالَ لِعَائِشَةَ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَذَكَرَ ضَرْبَتَيْنِ كَمَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسُ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: فِي حَدِيثِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ هَذَا أَنَّ تَيَمُّمَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ مَنْسُوخٌ لِأَنَّ عَمَّارًا أَخْبَرَهُ بِأَنَّ هَذَا أَوْلُ تَيَمُّمٍ كَانَ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَكُلُّ تَيَمُّمٍ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ فَخَالَفَهُ فَهُوَ لَهُ نَاسِخٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولات الجیش جگہ پر پڑاؤ ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، ان کا ظفار کے گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہو گیا۔
اس کی تلاش کے لیے لوگوں کو روک دیا گیا یہاں تک کہ فجر ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پاک مٹی سے طہارت کی رخصت نازل کر دی۔ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور مٹی سے کوئی چیز نہیں لی، اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا اور ہاتھوں کے اندرونی حصے کا بغلوں تک۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں تھا کہ تو برکت (کا باعث) ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھوں تک مسح کا جو حکم دیا تھا وہ منسوخ ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا تیمم تھا جب آیت تیمم نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تیمم اس کے مخالف ہیں اور وہ ناسخ ہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1003]
اس کی تلاش کے لیے لوگوں کو روک دیا گیا یہاں تک کہ فجر ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پاک مٹی سے طہارت کی رخصت نازل کر دی۔ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور مٹی سے کوئی چیز نہیں لی، اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا اور ہاتھوں کے اندرونی حصے کا بغلوں تک۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں تھا کہ تو برکت (کا باعث) ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھوں تک مسح کا جو حکم دیا تھا وہ منسوخ ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا تیمم تھا جب آیت تیمم نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تیمم اس کے مخالف ہیں اور وہ ناسخ ہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1003]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 320»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1004
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمَدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَا تَذْكُرُ، أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ فَأَجْنَبْتُ، أَنَا وَأَنْتَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا" فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ فَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَالنَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَذَكَرَ سَمَاعَ الْحَكَمِ لِلْحَدِيثِ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نَفْسِهِ.
سعید بن عبد الرحمن بن ابزی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں جنبی ہو جاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم ایک سفر میں تھے، میں اور آپ جنبی ہو گئے، آپ نے نماز ادا نہیں کی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر میں نے نماز پڑھی، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو یہ بات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اس طرح کرنا کافی تھا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، اس میں پھونک ماری پھر اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 331»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1005
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، أنا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ الْحَكَمُ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنَ ابْنِ ⦗٣٢٢⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى بِخُرَاسَانَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّهُ أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْنَبْتُ أَنَا وَأَنْتَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، ثُمَّ صَلَّيْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا"، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ لَمْ يُجَاوِزِ الْكُوعَ. وَرَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُرْهِبِيُّ إِلَّا أَنَّهُ شَكَّ فِي مَتْنِهِ وَاضْطَرَبَ فِيهِ.
حکم کہتے ہیں: میں نے خراسان میں ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ رحمہ اللہ سے سنا کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”میں جنبی ہوجاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟“ ان سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک سریہ میں تھے۔ میں اور آپ جنبی ہوگئے، آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر میں نے نماز پڑھی۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو یہ بات میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اس طرح کافی تھا“، پھر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا لیکن گٹوں سے آگے نہیں گزرے۔“
(ب) سلمہ بن کہیل نے اسے ذر بن عبداللہ مرہبی سے روایت کیا ہے، لیکن انہیں اس کے متن میں شک ہوا اور وہ اس میں مضطرب ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1005]
(ب) سلمہ بن کہیل نے اسے ذر بن عبداللہ مرہبی سے روایت کیا ہے، لیکن انہیں اس کے متن میں شک ہوا اور وہ اس میں مضطرب ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1006
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ فِي سَفَرٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا تُصَلِّ فَقَالَ: عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْتُ أَنَا وَأَنْتَ فَلَمْ نُصِبِ الْمَاءَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَأَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" يَا عَمَّارُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا" وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، فَقَالَ سَلَمَةُ: لَا أَدْرِي بَلَغَ الذِّرَاعَيْنِ أَمْ لَا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: اتَّقِ اللهَ، فَقَالَ عَمَّارُ: إِنْ شِئْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِمَا جَعَلَ اللهُ لَكَ عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ أَنْ لَا أُحَدِّثَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: بَلْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ..
ابن عبدالرحمن بن ابزیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں ایک سفر میں جنبی ہوگیا، مجھے پانی نہیں ملا، اس سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نماز نہ پڑھ۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سریہ میں تھے، ہم جنبی ہوگئے، ہمیں پانی نہیں ملا، آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمار! تجھے یہی کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا“ اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک ماری، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے کہا: میں نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل بازوؤں تک پہنچے ہیں یا نہیں۔ راوی کہتا ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ سے ڈر! عمار رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے آپ کو مجھ پر حق سے مقرر کیا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس حدیث کو بیان نہ کروں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تیرے اس معاملے کو تیرے ہی سپرد کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1007
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، فَذَكَرَهُ، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ شَكَّ سَلَمَةُ فَلَمْ يَدْرِ إِلَى الْكَفَّيْنِ، أَوْ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ، هَكَذَا وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ يَعْنِي أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ..
ابن عبد الرحمن بن ابزی رحمہ اللہ نے اس کو ذکر کیا ہے۔ (ب) شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سلمہ رحمہ اللہ کو یاد نہیں کہ ہتھیلیوں تک کا ذکر کیا یا کہنیوں تک۔ (ج) شعبہ رحمہ اللہ نے سلمہ رحمہ اللہ سے اس روایت کے متعلق نقل فرمایا ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں اس میں کہنیوں کا ذکر ہے یا ہتھیلیوں کا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1008
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا حَجَّاجُ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ:" ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوِ الذِّرَاعَيْنِ". قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ سَلَمَةُ يَقُولُ: الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهِ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ ذَاتَ يَوْمٍ: انْظُرْ مَا تَقُولُ فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ غَيْرُكَ. رَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ حَبِيبِ بْنِ صُهْبَانَ الْكَاهِلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
شعبہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اسی سند سے بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ پھر اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا کہنیوں یا بازوؤں تک مسح کیا۔ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سلمہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ ہتھیلیاں، چہرہ اور بازو (مسح میں شامل ہیں)۔ ایک دن ان کو منصور رحمہ اللہ نے کہا: ”دیکھ تو کیا کہہ رہا ہے؟ تیرے علاوہ کوئی بھی بازو کا ذکر نہیں کرتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1008]
تخریج الحدیث: «شاذ»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 1009
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ عَمَّارٌ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا" وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى نِصْفِ الذِّرَاعِ وَرَوَاهُ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا يَخْطُبُ فَذَكَرَ التَّيَمُّمَ فَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، وَرَفَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ حُصَيْنٍ، وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ مَرَّةً عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، وَمَرَّةً عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ مَرَّةً فِي مَتْنِهِ: ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَالذِّرَاعَيْنِ إِلَى نِصْفِ السَّاعِدِ وَلَمْ يَبْلُغِ الْمِرْفَقَيْنِ.
عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔۔۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو یہ بات میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے یہی کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا نصف بازوؤں تک مسح کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1009]
تخریج الحدیث: «صحيح أخرجه أبو داؤد 322»
الحكم على الحديث: صحيح أخرجه أبو داؤد 322
حدیث نمبر: 1010
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّهُ قَالَ:" سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّيَمُّمِ فَأَمَرَنِي بِالْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً". وَكَانَ قَتَادَةُ يُفْتِي بِهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ دُونَ ذِكْرِ عَزْرَةَ فِي إِسْنَادِهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي ذِكْرِ عَزْرَةَ فِي إِسْنَادِهِ، وَقِيلَ: عَنْ أَبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ”ایک ہی ضرب سے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح“ کا حکم دیا۔ (ب) قتادہ اسی کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔ ابان سے اس کی سند میں مذکور راوی عزرہ کے ذکر پر اختلاف ہے۔
(ج) ابان قتادہ سے دوسری سند سے نقل فرماتے ہیں کہ کہنیوں تک مسح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1010]
(ج) ابان قتادہ سے دوسری سند سے نقل فرماتے ہیں کہ کہنیوں تک مسح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1010]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابن حبان 1303»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ