🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

263. -- باب: سؤر سائر الحيوانات سوى الكلب والخنزير
-- باب: کتے اور خنزیر کے سوا دیگر تمام جانوروں کے جھوٹے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1178
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ ⦗٣٧٨⦘ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَتَوَضَّأُ بِمَا أَفْضَلَتِ الْحُمُرُ، قَالَ:" نَعَمْ وَبِمَا أَفْضَلَتِ السِّبَاعُ كُلُّهَا" وَفِي غَيْرِ رِوَايَتِنَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَخْبَرَنَا عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ بِمِثْلِهِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم گدھوں کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمام درندوں کے بچے ہوئے سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1178]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي 10»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1179
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا بِسْطَامُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُخْتَارُ الْمَوْصِلِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَنَتَوَضَّأُ بِمَا أَفْضَلَتِ الْحُمُرُ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَبِمَا أَفْضَلَتِ السِّبَاعُ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيُّ مُخْتَلَفٌ فِي ثِقَتِهِ وَضَعَّفَهُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ وَطَعَنُوا فِيهِ وَكَانَ الشَّافِعِيُّ يُبْعِدُهُ عَنِ الْكَذِبِ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الصُّوفِيُّ أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى قَدَرِيًّا قُلْتُ لِلرَّبِيعِ: فَمَا حَمَلَ الشَّافِعِيَّ عَلَى أَنْ رَوَى عَنْهُ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ لَأَنْ يَخِرَّ إِبْرَاهِيمُ مِنْ بُعْدٍ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكْذِبَ وَكَانَ ثِقَةً فِي الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: قَدْ نَظَرْتُ أَنَا فِي أَحَادِيثِهِ فَلَيْسَ فِيهَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ وَإِنَّمَا يَرْوِي الْمُنْكَرَ إِذَا كَانَ الْعُهْدَةُ مِنْ قِبَلِ الرَّاوِي عَنْهُ أَوْ مِنْ قِبْلِ مَنْ يَرْوِي إِبْرَاهِيمُ عَنْهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ تَابَعَهُ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ الْأَشْهَلِيُّ وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْمَعْرِفَةِ.
(الف) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا ہم گدھوں کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور درندوں کے بچے ہوئے سے بھی۔“
(ب) ابراہیم بن ابویحییٰ اسلمی کے ثقہ ہونے میں روایات مختلف ہیں، اکثر محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس پر جرح بھی کی ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اسے جھوٹ سے دور سمجھتے تھے۔ (ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن ابویحییٰ قدری تھا، میں نے ربیع سے کہا: پھر کس بات نے امام شافعی رحمہ اللہ کو اس سے نقل کرنے پر ابھارا؟ انھوں نے فرمایا: امام شافعی رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ ابراہیم کو بلندی سے گر جانا جھوٹ بولنے سے زیادہ محبوب تھا اور وہ حدیث میں با اعتماد تھا۔ (د) ابواحمد کہتے ہیں کہ میں نے اس کی احادیث دیکھی ہیں، ان میں کوئی حدیث منکر نہیں، وہ منکر روایت تب ہی بیان کرتا ہے جب اس کی ذمہ داری اس سے روایت کرنے والے پر یا اس شخص پر ہو جس سے ابراہیم روایت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1179]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1180
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَتَوَضَّأَ بِمَا أَفْضَلَتِ الْحُمُرُ؟ فَقَالَ:" وَبِمَا أَفْضَلَتِ السِّبَاعُ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم گدھوں کے بچے ہوئے پانی سے وضو کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درندوں کے بچے ہوئے سے بھی کرلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1180]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1181
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ بُجَيْدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّى وَرُدُوا حَوْضًا فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِصَاحِبِ الْحَوْضِ: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:" يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا".
یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک قافلے میں نکلے، اس میں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب وہ حوض کے پاس آئے تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حوض والے سے کہا: اے حوض والے! کیا تیرے حوض پر درندے آتے ہیں؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے حوض والے! ہمیں اس کی خبر نہ دے؛ کیونکہ درندے ہمارے پاس اور ہم ان کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1181]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه مالك 43»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1182
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ طَالِبٍ، أنا مُعَلَّى يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِسُؤْرِ الْحِمَارِ وَالْبَغْلِ بَأْسًا".
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ گدھے اور خچر کے جھوٹے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1182]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں