🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

275. -- باب: قدر القلتين
-- باب: دو قلہ کی مقدار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1250
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِإِسْنَادٍ لَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ خَبَثًا" وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ بِقِلَالِ هَجَرَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَقَدْ رَأَيْتُ قِلَالَ هَجَرَ، فَالْقُلَّةُ تَسَعُ قِرْبَتَيْنِ أَوْ قِرْبَتَيْنِ وَشَيْئًا قَالَ الشَّافِعِيُّ: كَانَ مُسْلِمٌ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ ذَلِكَ أَقَلُّ مِنْ نِصْفِ الْقِرْبَةِ أَوْ نِصْفِ الْقِرْبَةِ، فَيَقُولُ: خَمْسُ قِرَبٍ هُوَ أَكْثَرُ مَا يَسَعُ قُلَّتَيْنِ وَقَدْ تَكُونُ الْقُلَّتَانِ أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ قِرَبٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَالِاحْتِيَاطُ أَنْ تَكُونَ الْقُلَّةُ قِرْبَتَيْنِ وَنِصْفًا فَإِذَا كَانَ الْمَاءُ خَمْسَ قِرَبٍ لَمْ يَحْمِلْ نَجِسًا فِي جِرٍّ كَانَ أَوْ غَيْرِهِ إِلَّا أَنْ يَظْهَرَ فِي الْمَاءِ مِنْهُ رِيحٌ أَوْ طَعْمٌ أَوْ لَوْنٌ، قَالَ: وَقِرَبُ الْحِجَازِ كِبَارٌ فَلَا يَكُونُ الْمَاءُ الَّذِي لَا يَحْمِلُ النَّجَاسَةُ إِلَّا بِقِرَبٍ كِبَارٍ.
ابن جریج ایک سند سے نقل فرماتے ہیں: اس کا ذکر مجھے یاد نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ گندگی کو نہیں اٹھاتا (یعنی ناپاک نہیں ہوتا)۔“
اور اس حدیث میں فرمایا: ”ہجر شہر کے مٹکوں کے حساب سے۔“ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے ہجر شہر کے مٹکے دیکھے ہیں، ایک مٹکے میں دو مشکیزے یا دو مشکیزوں سے کچھ زیادہ پانی آتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسلم (بن خالد) کا خیال تھا کہ یہ زیادتی نصف مشکیزے سے کم یا نصف مشکیزہ ہے، چنانچہ وہ کہتے تھے: دو مٹکوں میں زیادہ سے زیادہ پانچ مشکیزے آتے ہیں اور کبھی دو مٹکے پانچ مشکیزوں سے کم بھی ہوتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: احتیاط یہ ہے کہ ایک مٹکا اڑھائی مشکیزے کا شمار کیا جائے، لہٰذا جب پانی پانچ مشکیزے ہو تو وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا، خواہ مٹکے میں ہو یا کسی اور جگہ، الا یہ کہ پانی میں اس کی بو، ذائقہ یا رنگ ظاہر ہو جائے۔ فرماتے ہیں: حجاز کے مشکیزے بڑے ہوتے ہیں، لہٰذا وہ پانی جو نجاست کو نہیں اٹھاتا وہ بڑے مشکیزوں ہی کے حساب سے ہو گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1250]
تخریج الحدیث: «ضعيف أخرجه الشافعي»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1251
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ أنا أَبُو عَلِيٍّ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِيُّ، أنا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ أَنَّ يَحْيَى بْنَ عَقِيلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ نَجَسًا وَلَا بَأْسًا" قَالَ: فَقُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ: قِلَالُ هَجَرَ؟ قَالَ: قِلَالُ هَجَرٍ قَالَ: فَأَظُنُّ أَنَّ كُلَّ قُلَّةٍ تَأْخُذُ الْفَرَقَيْنِ، زَادَ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَتِهِ وَالْفَرَقُ سِتَّةَ عَشَرَ رِطْلًا.
یحییٰ بن یعمر نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا اور اس میں کوئی حرج نہیں۔“ راوی کہتا ہے: میں نے یحییٰ بن عقیل سے پوچھا: ہجر شہر کے مٹکے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ہجر شہر کے مٹکے۔ راوی کہتا ہے: میرا گمان ہے کہ ہر مٹکے میں دو فرق پانی آتا ہے۔ احمد بن علی نے اپنی روایت میں زیادتی نقل کی ہے کہ فرق سولہ رطل کا ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1251]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/24»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1252
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي أَبَا حُمَةٍ، ثنا أَبُو قُرَّةَ يَعْنِي مُوسَى بْنَ طَارِقٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، فَذَكَرَهُ قَالَ مُحَمَّدٌ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ: أَيُّ قِلَالٍ؟ قَالَ: قِلَالُ هَجَرَ، قَالَ مُحَمَّدٌ:" فَرَأَيْتُ قِلَالَ هَجَرَ فَأَظُنُّ كُلَّ قُلَّةٍ تَأْخُذُ قِرْبَتَيْنِ" كَذَا فِي كِتَابِ شَيْخِي قِرْبَتَيْنِ وَهَذَا أَقْرَبُ مِمَّا قَالَ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَالْإِسْنَادُ الْأَوْلُ أَحْفَظُ وَاللهُ أَعْلَمُ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ مُحَمَّدٌ: هَذَا الَّذِي حَدَّثَ عَنْهُ ابْنُ جُرَيْجٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَيَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ.
ابن جریج کہتے ہیں: مجھے محمد نے خبر دی ہے کہ میں نے یحییٰ بن عقیل سے پوچھا: کون سے مٹکے؟ انہوں نے کہا: ہجر شہر کے مٹکے۔ محمد راوی کہتا ہے کہ میں نے ہجر شہر کے مٹکے دیکھے ہیں، میرے گمان کے مطابق ہر مٹکا دو مشکیزوں کے برابر تھا۔
پہلی سند زیادہ محفوظ ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1252]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1253
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ" قَالَ: قُلْتُ: مَا الْقُلَّتَيْنِ؟ قَالَ الْجَرَّتَيْنِ".
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”جب پانی دو مٹکے ہوں تو اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ راوی کہتا ہے: میں نے کہا: «قُلَّتَيْنِ» ”قلتین“ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: ”دو مٹکے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1253]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن أبي شيبة 1531»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1254
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَاسَرْجِسِيُّ أنبأ إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ، قَالَ:" الْقِلَالُ الْخَوَابِي الْعِظَامُ".
عاصم بن منذر رحمہ اللہ کہتے ہیں: «الْقِلَالُ» بڑے بڑے مٹکے ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1254]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1255
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ⦗٤٠٠⦘ قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ: سَأَلْنَا ابْنَ إِسْحَاقَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الْقُلَّتَيْنِ فَقَالَ:" هَذِهِ الْجِرَارُ الَّتِي يُسْتَقَى فِيهَا الْمَاءُ وَالدَّوَارِيقُ".
عبدالرحیم بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ سے «قُلَّتَيْنِ» کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: یہ وہی مٹکے ہیں جن میں پانی بھرا جاتا ہے، اور بڑے بڑے برتن (دواریق)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1255]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1256
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَكِيلُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ هُشَيْمًا، يَقُولُ:" الْقُلَّتَيْنِ يَعْنِي الْجَرَّتَيْنِ الْكِبَارَ".
حسن بن عرفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشیم رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: «قُلَّتَيْنِ» سے مراد دو بڑے بڑے مٹکے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1256]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدار قطني 1/19»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1257
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ، قَالَ: قَالَ وَكِيعٌ:" يَعْنِي بِالْقُلَّةِ الْجَرَّةَ".
وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں: «قُلَّةٌ» سے مراد مٹکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1258
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ:" الْقُلَّةُ الْجَرَّةُ".
یحییٰ بن آدم رحمہ اللہ کہتے ہیں: «قُلَّة» سے مراد مٹکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1259
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ أنا عَبْدُ الْوَهَّابٍ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ الْخَفَّافَ، أنا سَعِيد يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ وَفِيهِ:" ثُمَّ رُفِعْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى" فَحَدَّثَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ وَرَقَهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ وَأَنَّ نَبْقَهَا مِثْلَ قِلَالِ هَجَرَ" مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
سیدنا مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج والی حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ کی طرف اٹھایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے بیر ہجر شہر کے مٹکوں کی طرح تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3674»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں