🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

308. -- باب: مباشرة الحائض فيما فوق الإزار وما يحل منها وما يحرم
-- باب: تہبند کے اوپر سے حائضہ کے ساتھ مباشرت (جسمانی ملاپ) کرنے اور اس سے حلال اور حرام ہونے والے امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1497
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ مَنْصُورٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں ٹیک لگاتے اور میں حائضہ ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1497]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 293»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1498
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَيَّ الْإِزَارُ".
یزید بن بابنوس سے روایت ہے کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، پھر لمبی حدیث بیان کی۔ اس میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ڈھانپ لیتے اور میرے سر کو چھوتے تھے حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور مجھ پر چادر ہوتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنْهُ سَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَحِلُّ لِي مِنِ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ:" لَكَ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ" قَالَ: وَذَكَرَ مُؤَاكَلَةَ الْحَائِضِ أَيْضًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَمُّهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ وَقِيلَ حَرَامُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ.
حرام بن حکیم اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے لیے میری بیوی سے کیا حلال ہے جب وہ حائضہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے ازار سے اوپر تک۔“ انہوں نے کہا: اسی طرح حائضہ کے ساتھ کھانے کا ذکر بھی فرمایا۔ اس کے چچا عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے لمبی حدیث بیان کی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حرام بن معاویہ اپنے چچا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1499]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه أبو داؤد 1212»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1500
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُمَرَ قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ لَهُمْ عُمَرُ: أَبِإِذْنٍ جِئْتُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: جِئْنَا نَسْأَلُ عَنْ ثَلَاثٍ قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قَالُوا: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا مَا هِيَ، وَمَا يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَ عُمَرُ:" أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ؟" قَالُوا: لَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا نَحْنُ بِسَحَرَةٍ قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ ⦗٤٦٧⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُنَّ قَبْلَكُمْ أَمَّا صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ نُورٌ فَنَوِّرْ بَيْتَكَ مَا اسْتَطَعْتَ، وَأَمَّا الْحَائِضُ فَمَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَلَيْسَ لَهُ مَا تَحْتَهُ، وَأَمَّا الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتُفْرِغُ بِيَمِينِكَ عَلَى يَسَارِكَ، ثُمَّ تُدْخِلُ يَدَكَ فِي الْإِنَاءِ فَتَغْسِلُ فَرْجَكَ وَمَا أَصَابَكَ، ثُمَّ تَوَضَّأُ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ تُفْرِغُ عَلَى رَأْسِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَدْلُكُ رَأْسَكَ كُلَّ مَرَّةٍ ثُمَّ تَغْسِلُ سَائِرَ جَسَدِكَ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام عمیر سے روایت ہے کہ اہل عراق میں سے ایک گروہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اجازت سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کو کون سی چیز لے کر آئی ہے؟ انہوں نے کہا: ہم آپ سے تین سوال کرنے آئے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: آدمی کا گھر میں نفلی نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور اس کے لیے اپنی بیوی سے کیا حلال ہے جب وہ حائضہ ہو اور جنابت کے غسل کے متعلق پوچھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم جادوگر ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اے امیر المؤمنین! ہم جادوگر نہیں ہیں انہوں نے کہا تم نے تین چیزوں کے متعلق سوال کیا، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہے، مجھ سے کسی نے بھی ان کے متعلق سوال نہیں کیا، ”آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا روشنی ہے، اپنے گھر کو روشن کر جتنی تو طاقت رکھتا ہے اور حائضہ سے چادر کے اوپر تک، تیرے لیے اس سے نیچے حلال نہیں ہے اور جنابت کا غسل اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر، اپنی شرمگاہ کو دھو اور جو چیز اس کو لگی ہے (اسے دور کر) پھر نماز جیسا وضو کر، پھر اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈال، ہر مرتبہ اپنے سر کو مل، پھر اپنے سارے جسم کو دھو لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1500]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق 987»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں