🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

326. -- باب: غسل المستحاضة
-- باب: مستحاضہ کے غسل کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1657
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَمْنَةَ فَقُلْتُ: إِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَقَالَ:" لِتَجْلِسْ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلْ وَتُؤَخِّرِ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِ الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي وَتُؤَخِّرِ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّيهِمَا وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ وَرُوِيَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حمنہ رضی اللہ عنہا کے متعلق سوال کیا کہ وہ مستحاضہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھی رہے، پھر غسل کرے اور ظہر کو مؤخر کر دے اور عصر کو جلدی ادا کر لے، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، اور مغرب کو مؤخر کر دے اور عشاء کو جلدی ادا کر لے اور غسل کرے اور نماز پڑھے اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1657]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الطبراني 145»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا وَهْبُ بْنُ ⦗٥٢١⦘ بَقِيَّةَ ثنا خَالِدٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ثنا خَالِدٌ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَرِوَايَةُ أَبِي عَلِيٍّ أَصَحُّ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللهِ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ" فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى رَأَيْنَا الصَّفَارَةَ فَوْقَ الْمَاءِ فَقَالَ:" تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَتَوَضَّأُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَلِيٍّ: لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ فَإِذَا رَأَتْ صَفَارَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ وَذَكَرَهُ، هَكَذَا رَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَيْهِ وَالْمَشْهُورُ رِوَايَةُ الْجُمْهُورِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ فِي شَأْنِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ كَمَا مَضَى وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ.
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (اور ایک روایت میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہیں، اور ابو علی کی روایت زیادہ صحیح ہے)، فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا اتنے عرصے سے مستحاضہ ہے اور اس نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“! یہ شیطان کی طرف سے ہے، اسے کہو ٹب میں بیٹھے۔“ وہ بیٹھی یہاں تک کہ ہم نے زردی پانی کے اوپر دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرے، پھر مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کرے، پھر فجر کے لیے ایک غسل کرے اور اس کے درمیان وضو کرے۔“
اور ابو علی کی حدیث میں ہے کہ ٹب میں بیٹھے جب پانی کے اوپر زردی دیکھے تو غسل کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 296»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1659
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْقُرَشِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: جَاءَتْ خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَقَعَ فِي النَّارِ إِنِّي أَدَعُ الصَّلَاةَ السَّنَّةَ وَالسَّنَتَيْنِ لَا أُصَلِّي فَقَالَتِ: انْتَظِرِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَذِهِ فَاطِمَةُ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولِي لَهَا فَلْتَدَعِ الصَّلَاةَ فِي كُلِّ شَهْرٍ أَيَّامَ قُرْئِهَا ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ فِي كُلِّ يَوْمٍ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ الطُّهُورُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلْتُنَظِّفْ وَلْتَحْتَشِ فَإِنَّمَا هُوَ دَاءٌ عَرَضَ أَوْ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ" وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ كَذَلِكَ وَقَالَ: ثُمَّ الطُّهُورُ بَعْدَ ذَلِكَ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَخَالَفَهُ غَيْرُهُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ.
(الف) ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہا: میں ڈرتی ہوں کہ کہیں جہنم میں نہ چلی جاؤں، میں نے سال، دو سال سے نماز چھوڑ رکھی ہے، میں نہیں پڑھ سکی۔ انہوں نے کہا: تو انتظار کر یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ فاطمہ ہے، اس طرح کہہ رہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اسے کہہ دو کہ ہر مہینے اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر ہر روز ایک غسل کرے، پھر ہر نماز کے وقت وضو کرے، اور صفائی کرے اور روئی رکھے، کیونکہ یہ ایک بیماری ہے جو اسے لاحق ہو گئی ہے یا شیطان کی طرف سے چوکا ہے یا رگ کٹ گئی ہے۔“ (ب) ابو عاصم سے اسی طرح منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم 1/283»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1660
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أنا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ خَالَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ أَنَّهَا اسْتَحَاضَتْ فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ فَاطِمَةُ ذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولِي ⦗٥٢٢⦘ لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي كُلِّ شَهْرٍ عِدَادَ أَقْرَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَعْرِضَ لَهَا هَذَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ غِسْلَةً وَاحِدَةً ثُمَّ الطُّهْرُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ابن ابی ملیکہ اپنی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مستحاضہ ہوئیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور اپنی بیماری کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! فاطمہ نے (اس اس طرح) ذکر کیا ہے وہ استحاضہ والی ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ سے کہو: وہ ہر مہینے اپنے حیض کی گزشتہ عادت کے مطابق (اتنے دن) نماز سے رکی رہے، پھر ایک دفعہ غسل کرے، پھر ہر نماز کے لیے وضو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1660]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1661
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ عَلِيٌّ وَحَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي الْأَشْعَثِ أَنَّ خَالَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ فَلَبِثَتْ زَمَانًا لَا تُصَلِّي فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ فَاطِمَةُ ذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولِي لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي كُلِّ شَهْرٍ عَدَدَ أَقْرَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَعْرِضَ لَهَا هَذَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ غَسْلَةً وَاحِدَةً ثُمَّ الطُّهْرُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ابی الاشعث کی حدیث میں ہے کہ ان کی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں اور ایک عرصہ ٹھہری رہیں، وہ نماز نہیں پڑھتی تھیں، وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور ان سے ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فاطمہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ مستحاضہ ہو گئی ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ کو کہو: ہر ماہ میں اپنے حیض کی اس گنتی کے مطابق جو استحاضہ آنے سے پہلے تھی نماز سے رکی رہے، پھر ایک دفعہ غسل کرے پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1661]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1662
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ عَلِيٌّ: وَثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ قَالَا: ثنا، عَنْبَسَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي الْأَشْعَثِ أَنَّ خَالَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ فَلَبِثَتْ زَمَانًا لَا تُصَلِّي فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا وَذَكَرَتْ قِصَّةً قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولِي لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ فِي كُلِّ شَهْرٍ عَنِ الصَّلَاةِ عَدَدَ قُرُوئِهَا فَإِذَا مَضَتْ تِلْكَ الْأَيَّامُ فَلْتَغْتَسِلْ غَسْلَةً وَاحِدَةً تَسْتَدْخِلُ وَتُنَظِّفُ وَتَسْتَثْفِرُ ثُمَّ الطُّهُورُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي فَإِنَّ الَّذِي أَصَابَهَا رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ أَوْ دَاءٌ عَرَضَ لَهَا" قَالَ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ: فَسَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ فَأَخْبَرَنِي بِنَحْوِهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَرُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ مَعْنَى الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَعُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يُضَعَّفَانِ أَمْرَهُ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا اور ابی الاشعث کی حدیث میں ہے کہ ان کی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں، وہ ایک لمبا عرصہ ٹھہری رہیں اور نماز نہیں پڑھتی تھیں، وہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور ان سے سارا قصہ بیان کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ سے کہو: اپنے حیض کی گنتی میں ہر ماہ نماز پڑھنے سے رکی رہے، جب یہ دن گزر جائیں تو وہ ایک دفعہ غسل کرے اور صفائی کرے اور لنگوٹ باندھے، پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے اور نماز پڑھے۔ اس کو شیطان کی طرف سے چوکا پہنچا ہے یا رگ کٹ گئی ہے یا بیماری پیش آگئی ہے۔“
حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں اور عثمان بن سعد کاتب قوی نہیں ہے، یحییٰ بن سعید اور یحییٰ بن معین اسے ضعیف قرار دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1662]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1663
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ⦗٥٢٣⦘ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ قَالَ:" تَقْعُدُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ عِنْدَ كُلِّ طَهُورٍ وَتُصَلِّي" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، عَنْ جَعْفَرٍ وَقَالَ وَهْبَانِ بْنُ بَقِيَّةَ: تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مستحاضہ عورت کے متعلق سوال کیا کہ وہ کیسے کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھی رہے، پھر ہر دن ہر وضو کے وقت غسل کرے اور نماز پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1663]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الدار قطني 1/219»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1664
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ فَقَالَ:" تَقْعُدُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ ثُمَّ تَحْتَشِي ثُمَّ تُصَلِّي" قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ: جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ فِيهِ نَظَرٌ وَلَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ لِابْنِ جُرَيْجٍ وَلَا لِأَبِي الزُّبَيْرِ مِنْ وَجْهٍ غَيْرِ هَذَا وَبِمِثْلِهِ لَا تَقُومُ حُجَّةٌ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهَا تَغْتَسِلُ لِكُلِّ يَوْمٍ وَفِي رِوَايَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَفِي رِوَايَةٍ لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ وَفِي إِحْدَى الرِّوَايَاتِ عَنْ عَائِشَةَ كَذَلِكَ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ كُلَّ يَوْمٍ غُسْلًا، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ الْوُضُوءُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ قَالَ: وَفِي حَدِيثِ حَمْنَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" إِنْ قَوِيتِ فَاجْمَعِي بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَصَلِّي الصُّبْحَ بِغُسْلٍ" وَأَعْلَمَهَا أَنَّهُ أَحَبُّ الْأَمْرَيْنِ إِلَيْهِ لَهَا وَأَنَّهُ يُجْزِئُهَا الْأَمْرُ الْأَوَّلُ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ الطُّهْرِ مِنَ الْحَيْضِ ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهَا بِغُسْلٍ بَعْدَهُ قَالَ: وَإِنْ رُوِيَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ حَدِيثٌ مُعَلَّقٌ فَحَدِيثُ حَمْنَةَ بَيَّنَ أَنَّهُ اخْتِيَارٌ وَأَنَّ غَيْرَهُ يُجْزِئُ مِنْهُ.
(الف) سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مستحاضہ کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھی رہے گی، پھر ہر طہر کے لیے غسل کر، روئی رکھے اور نماز پڑھے۔“
(ب) ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ جعفر بن سلیمان محلِ نظر ہے، یہ حدیث ابن جریج اور ابو زبیر سے اس سند کے علاوہ کسی اور طریق سے معروف نہیں اور اس جیسی روایات قابلِ حجت نہیں، اس میں اختلاف ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ہر دن غسل کرے گی، ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہر نماز کے لیے غسل کرے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہر نماز کے وقت (غسل کرے گی)۔
(ر) ایک روایت میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا مشکل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔
(س) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طہر سے دوسرے طہر تک غسل کرے گی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی ایک روایت اسی طرح ہے، دوسری روایت میں ہے کہ ہر روز غسل کرے گی۔
(ش) ایک دوسری روایت میں ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔
(ص) امام شافعی رحمہ اللہ سے سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تو طاقت رکھے تو ایک غسل کے ساتھ ظہر اور عصر کو جمع کرے، پھر ایک غسل کے ساتھ مغرب اور عشاء کو جمع کرلے اور صبح کی نماز ایک غسل کے ساتھ پڑھ لے۔“ انھوں نے بتلایا کہ انھیں دونوں کاموں میں یہ زیادہ پسندیدہ تھا، اگرچہ انھیں پہلا حکم بھی کافی تھا کہ وہ حیض سے طہر کے لیے غسل کرے، پھر اس کے بعد غسل کا حکم نہیں تھا، مستحاضہ والی روایت مطلق ہے، حدیثِ حمنہ میں اختیار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1664]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں