السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
332. -- باب: عدد ركعات الصلوات الخمس
-- باب: پانچ فرض نمازوں کی رکعات کی تعداد کا بیان
حدیث نمبر: 1694
أنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" قُمْ فَصَلِّ وَذَلِكَ دُلُوكَ الشَّمْسِ حِينَ مَالَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعَصْرَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ فِي الظُّهْرِ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الظُّهْرَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ صَارَ ظِلُّهُ مِثْلَيْهِ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعَصْرَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ الْوَقْتَ بِالْأَمْسِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُ بَعْدَ أَنْ غَابَ الشَّفَقُ وَأَظْلَمَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ أَسْفَرَ الْفَجْرُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ:" مَا بَيْنَ هَذَيْنِ صَلَاةٌ" أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَإِنَّمَا هُوَ بَلَاغٌ بَلَغَهُ وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثٍ آخَرَ مُرْسَلٍ.
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”کھڑے ہوجائیں اور نماز پڑھیں“ اور یہ «دُلُوكِ الشَّمْسِ» ”سورج مائل ہونے“ کا وقت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ظہر کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت اس کا سایہ اس کی لمبائی کی مثل ہوگیا، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت سورج غروب ہوگیا، انہوں نے کہا: ”کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت سرخی غروب ہوگئی، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشاء کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت فجر پھوٹ پڑی، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی دو رکعتیں ادا کیں، پھر کل کو دوپہر کے وقت آئے جس وقت ایک چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت اس کا سایہ اس کی دو مثل ہوگیا، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی چار رکعتیں ادا کیں۔ پھر کل اسی وقت آئے جس وقت سورج غروب ہوگیا، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں۔ پھر سرخی غروب ہونے کے بعد آئے اور اندھیرا ہوگیا، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر آئے جس وقت فجر روشن ہوگئی، انہوں نے کہا: ”کھڑے ہوں نماز پڑھیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی دو رکعتیں ادا کیں، پھر کہا: ”ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے“۔
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے یہ روایت سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی، بلکہ یہ ایک بلاغ ہے جو ان تک پہنچا، اور یہ بات ایک دوسری مرسل حدیث میں بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1694]
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے یہ روایت سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی، بلکہ یہ ایک بلاغ ہے جو ان تک پہنچا، اور یہ بات ایک دوسری مرسل حدیث میں بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1695
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُنَادِي ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: ثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُمْ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ بِطُولِهِ وَفِيهِ فَرْضُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ قَالَ قَتَادَةُ: وَثنا الْحَسَنُ يَعْنِي الْبَصْرِيَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ بِهِنَّ إِلَى قَوْمِهِ خَلَا عَنْهُمْ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ نُودِيَ فِيهِمُ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ: فَفَزِعَ الْقَوْمُ لِذَلِكَ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْرَأُ فِيهِنَّ عَلَانِيَةً يَقْتَدِي النَّاسُ بِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى إِذَا تَصَوَّبَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ وَهِيَ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ نُودِيَ فِيهِمْ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةٌ فَفَزِعَ الْقَوْمُ لِذَلِكَ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْرَأُ فِيهِنَّ عَلَانِيَةً يَقْتَدِي النَّاسُ بِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ نُودِيَ فِيهِمْ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّى بِهِمْ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٥٣٣⦘ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَلَا يَقْرَأُ فِي الْوَاحِدَةِ يَعْنِي عَلَانِيَةً يَقْتَدِي النَّاسُ بِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى إِذَا غَابَ الشَّفَقُ نُودِيَ فِيهِمْ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّى بِهِمْ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ عَلَانِيَةً وَلَا يَقْرَأُ فِي الثِّنْتَيْنِ يَقْتَدِي النَّاسُ بِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: فَبَاتَ الْقَوْمُ وَهُمْ لَا يَدْرُونَ أَيُزَادُونَ عَلَى ذَلِكَ أَمْ لَا حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نُودِيَ فِيهِمُ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّى بِهِمْ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ يَقْتَدِي النَّاسُ بِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" فَفِي هَذَا الْحَدِيثِ وَمَا رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْمِعْرَاجِ وَأَنَّ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فَرْضٌ حِينَئِذٍ بِأَعْدَادِهِنَّ وَقَدْ ثَبَتَ ذَلِكَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خِلَافُ ذَلِكَ.
قتادہ کہتے ہیں کہ ہمیں حسن بصری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب انہیں اپنی قوم کی طرف لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے الگ ہوئے یہاں تک کہ سورج آسمان کے درمیان سے زائل ہوا، ان (نمازوں) کے متعلق لوگوں کو بتایا گیا کہ ”نماز کھڑی ہونے والی ہے“، لوگ گھبرا گئے اور جمع ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار رکعتیں پڑھائیں، ان میں اونچی قراءت نہیں کی، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتدا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج آسمان سے نیچے کی جانب چلا گیا، یعنی مغرب کی طرف جھک گیا، وہ سفید چمکدار تھا، لوگوں کو آواز دی گئی: ”نماز کھڑی ہونے والی ہے“، اس وجہ سے قوم گھبرائی، پس وہ جمع ہوئے، ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کی چار رکعتیں پڑھائیں، ان میں اونچی قراءت نہیں کرتے تھے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتدا کرتے رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، پھر لوگوں کو آواز دی گئی کہ ”نماز کھڑی ہونے والی ہے“، وہ جمع ہوئے، ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعتیں پڑھائیں، پہلی دو رکعتوں میں قراءت کی اور ایک میں نہیں کی یعنی اونچی آواز سے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتدا کر رہے تھے، یہاں تک کہ سرخی غروب ہو گئی، پھر لوگوں کو آواز دی گئی کہ ”نماز کھڑی ہونے والی ہے“، وہ جمع ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار رکعتیں پڑھائیں، دو رکعتوں میں اونچی قراءت کی اور دو رکعتوں میں نہیں کی، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتدا کر رہے تھے۔ قوم سو گئی اور وہ نہیں جانتے تھے کہ ابھی مزید کچھ ہو گا یا نہیں؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، ان کو آواز دی گئی کہ ”نماز کھڑی ہونے والی ہے“، لوگ جمع ہوئے، ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں لمبی قراءت کی، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتدا کر رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1695]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1696
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" فُرِضَتِ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ فُرِضَتْ أَرْبَعًا وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: وَتَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا التَّقْيِيدُ تَفَرَّدَ بِهِ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَسَائِرُ الثِّقَاتِ أَطْلَقُوهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں دو دو رکعتیں فرض کی گئیں، جب مدینہ کی طرف نکلے تو چار فرض کی گئیں اور سفر کی نماز دو رکعتیں باقی رکھی گئیں۔
یہ قید (مکہ اور مدینہ کی تفصیل) زہری سے بیان کرنے میں معمر بن راشد منفرد ہیں، جبکہ باقی تمام ثقہ راویوں نے اسے مطلق بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1696]
یہ قید (مکہ اور مدینہ کی تفصیل) زہری سے بیان کرنے میں معمر بن راشد منفرد ہیں، جبکہ باقی تمام ثقہ راویوں نے اسے مطلق بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1696]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1697
وَقَدْ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سُئِلَ الزُّهْرِيُّ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" فَرَضَ اللهُ الصَّلَاةَ أَوَّلَ مَا فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَمَّهَا فِي الْحَضَرِ وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الْأُولَى" وَرُوِيَ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
امام اوزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام زہری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز مدینہ میں ہجرت کرنے سے پہلے کس طرح تھی؟ انہوں نے کہا: مجھ کو عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا: ”اللہ نے نماز کو فرض کیا، پہلے دو رکعتیں فرض کیں، پھر حضر میں اس کو مکمل کر دیا اور سفر کی نماز پہلے فریضہ پر قائم رکھی گئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1697]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 1040»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1698
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ثنا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا قَدِمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَاطْمَأَنَّ زَادَ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ الْمَغْرِبِ لِأَنَّهَا وِتْرٌ وَصَلَاةُ الْغَدَاةِ لِطُولِ قِرَاءَتِهَا قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى صَلَاتَهُ الْأُولَى".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ پہلے جو نماز فرض کی گئی وہ دو رکعتیں تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور مطمئن ہو گئے تو مغرب اور صبح کی نماز کے علاوہ دو رکعتیں زیادہ کی گئیں، مغرب اس لیے کہ وہ وتر ہے اور صبح کی نماز اس لیے کہ اس میں قراءت لمبی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی والی نماز پڑھتے یعنی قصر کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1698]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن حبان 12738»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ