السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
357. -- باب: رواية من روى النهي عن الأذان قبل الوقت
-- باب: وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت نقل کرنے والے کی روایت کا بیان
حدیث نمبر: 1797
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدِ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا أَبُو مُسْلِمٍ ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، نا مُوسَى ثنا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِيَ:" أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ، أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ثَلَاثًا" زَادَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي حَدِيثِهِ فَرَجَعَ فَنَادَى: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ، هَذَا حَدِيثٌ تَفَرَّدَ بِوَصْلِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ وَرُوِي أَيْضًا عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَرْبِيٍّ، عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا أَنَّ سَعِيدًا ضَعِيفٌ وَرِوَايَةُ حَمَّادٍ مُنْفَرِدَةٌ وَحَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَصَحُّ مِنْهَا وَمَعَهُ رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ.
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے فجر طلوع ہونے سے پہلے اذان دی، انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ واپس لوٹ کر اعلان کریں: ”خبردار! بندہ سویا ہوا تھا، خبردار! بندہ سویا ہوا تھا“، تین بار کہا۔ (ب) موسیٰ بن اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ: ”خبردار! بندہ سویا ہوا تھا“۔ اس حدیث میں ایوب سے موصولاً بیان کرنے میں حماد بن سلمہ متفرد ہیں۔
یہ سعید بن زربی عن ایوب سے بھی مروی ہے، مگر سعید ضعیف ہے، اور حماد کی روایت منفرد ہے، اور عبید اللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے، اور اس کے ساتھ زہری عن سالم عن ابیہ کی روایت بھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1797]
یہ سعید بن زربی عن ایوب سے بھی مروی ہے، مگر سعید ضعیف ہے، اور حماد کی روایت منفرد ہے، اور عبید اللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے، اور اس کے ساتھ زہری عن سالم عن ابیہ کی روایت بھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1797]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه أبوداؤد 532»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1798
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، نا عَبْدَانُ ثنا هُدْبَةُ، وَطَالُوتُ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي عُمَرَ الضَّرِيرِ ثُمَّ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: أَخْطَأَ حَمَّادٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي، عَنْ نَافِعٍ وَحَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ.
علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد رحمہ اللہ نے اس حدیث میں غلطی کی ہے اور صحیح حدیث عبید اللہ رحمہ اللہ کی ہے، یعنی «عَنْ نَافِعٍ» اور زہری رحمہ اللہ کی حدیث «عَنْ سَالِمٍ» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1798]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1799
وَأَخْبَرَنَا عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ⦗٥٦٤⦘ بَكْرٍ الْمُطَرِّزُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ" شَاذٌّ غَيْرُ وَاقِعٍ عَلَى الْقَلْبِ وَهُوَ خِلَافُ مَا رَوَاهُ النَّاسُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: أَذَّنَ بِلَالٌ مَرَّةً بِلَيْلٍ فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ مَوْصُولًا وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يَصِحُّ.
(الف) محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: حماد بن سلمہ کی حدیث عن ایوب عن نافع عن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہ بلال رضی اللہ عنہ نے طلوع فجر سے پہلے اذان دی، شاذ ہے، دل اسے قبول نہیں کرتا، یہ اس روایت کے خلاف ہے جسے لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ معمر بن راشد نے ایوب سے روایت کیا ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کو اذان کہی، پھر انہوں نے مرسل روایت بیان کی، عبدالعزیز بن ابو رواد عن نافع موصول روایت ہے اور ضعیف ہے، صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1799]
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ معمر بن راشد نے ایوب سے روایت کیا ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کو اذان کہی، پھر انہوں نے مرسل روایت بیان کی، عبدالعزیز بن ابو رواد عن نافع موصول روایت ہے اور ضعیف ہے، صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1799]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1800
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ بِلَيْلٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟" قَالَ: اسْتَيْقَظْتُ وَأَنَا وَسْنَانُ فَظَنَنْتُ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ طَلَعَ فَأَذَّنْتُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادِيَ فِي الْمَدِينَةِ ثَلَاثًا:" إِنَّ الْعَبْدَ رَقَدَ" ثُمَّ أَقْعَدَهُ إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ قَالَ:" قُمِ الْآنَ" ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ" وَرَوَاهُ أَيْضًا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَوْصُولًا مُخْتَصَرًا وَهُوَ وَهْمٌ وَالصَّوَابُ رِوَايَةُ شُعَيْبِ بْنِ حَرْبٍ..
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کو اذان دی، انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کو اس (اذان) پر کس نے ابھارا تھا؟“ انہوں نے کہا: میں اونگھ کی حالت میں بیدار ہوا، میں نے گمان کیا کہ فجر طلوع ہو چکی ہے، میں نے اذان دے دی۔ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدینہ میں تین مرتبہ اعلان کرے کہ ”بندہ سو گیا تھا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پہلو میں بٹھا لیا، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، پھر فرمایا: ”اب کھڑا ہو،“ فرماتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتیں پڑھیں۔
عامر بن مدرک نے بھی اسے عبدالعزیز سے موصولاً مختصر روایت کیا ہے، اور یہ وہم ہے، درست شعیب بن حرب کی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1800]
عامر بن مدرک نے بھی اسے عبدالعزیز سے موصولاً مختصر روایت کیا ہے، اور یہ وہم ہے، درست شعیب بن حرب کی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1800]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1801
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ثنا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ ثنا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ثنا نَافِعٌ عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ ذَكَرَ نَحْوَهُ يَعْنِي نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَوْ غَيْرُهُ، وَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ يُقَالُ لَهُ: مَسْعُودٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَاكَ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ أَصَحُّ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: عَجِّلُوا الْأَذَانَ بِالصُّبْحِ يُدْلِجُ الْمُدْلِجُ وَيَخْرُجُ الْعَامِرَةُ.
(الف) نافع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن سے نقل فرماتے ہیں، جس کو مسروح کہا جاتا تھا، اس نے صبح سے پہلے اذان دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو حکم دیا، آگے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح حدیث بیان کی۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صبح کی اذان جلدی دو تاکہ رات کو سفر کرنے والا روانہ ہو جائے اور گھر میں رہنے والا نکل پڑے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مقرر کردہ مؤذن تھا جس کا نام مسروح یا اس کے علاوہ اور کوئی تھا۔
(ج) دراوردی نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا، اس کا نام مسعود تھا۔ انہوں نے بھی پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1801]
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صبح کی اذان جلدی دو تاکہ رات کو سفر کرنے والا روانہ ہو جائے اور گھر میں رہنے والا نکل پڑے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مقرر کردہ مؤذن تھا جس کا نام مسروح یا اس کے علاوہ اور کوئی تھا۔
(ج) دراوردی نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا، اس کا نام مسعود تھا۔ انہوں نے بھی پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه أبو داؤد 533»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1802
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْإِمَامُ ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ثنا سُفْيَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَى عِيَاضٍ قَالَ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ فَقَالَ:" لَا تُؤَذِّنُ حَتَّى تَرَى الْفَجْرَ" ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ:" لَا تُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ" ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ:" لَا تُؤَذِّنُ حَتَّى تَرَى الْفَجْرَ هَكَذَا" وَجَمَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَهَذَا مُرْسَلٌ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: شَدَّادٌ مَوْلَى عِيَاضٍ لَمْ يَذْكُرْ بِلَالًا وَأَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ قَدْ بَيَّنَّا ضَعْفَهَا فِي كِتَابِ الْخِلَافِ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ مُرْسَلًا مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ وَغَيْرِهِ.
شداد، جو عیاض کا غلام تھا، کہتا ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سحری کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اذان نہ دے یہاں تک کہ فجر دیکھ لے۔“ پھر اگلے دن آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اذان نہ دے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجائے۔“ پھر اگلے دن آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اذان نہ دے یہاں تک کہ تو فجر دیکھ لے۔“ اس طرح اور اپنے ہاتھوں کو جمع کیا پھر ان دونوں کو جدا کردیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد کی ملاقات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ یہ حدیث ابو علی روزباری نے ابوبکر بن داسہ کے واسطے سے ابوداؤد سے نقل کی ہے۔
شیخ کہتے ہیں: اسے بعض دوسری اسناد سے بھی نقل کیا گیا ہے جو تمام ضعیف ہیں، ہم نے ان کا ضعف کتاب الخلاف میں بیان کیا ہے۔ حمید بن ہلال وغیرہ کی حدیث مرسل ہے۔
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1802]
شیخ کہتے ہیں: اسے بعض دوسری اسناد سے بھی نقل کیا گیا ہے جو تمام ضعیف ہیں، ہم نے ان کا ضعف کتاب الخلاف میں بیان کیا ہے۔ حمید بن ہلال وغیرہ کی حدیث مرسل ہے۔
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 534»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1803
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى ثنا الْمُقْرِئُ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَذَّنَ بِلَالٌ بِلَيْلٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ إِلَى مَقَامِكَ" فَنَادَى ثَلَاثًا: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ وَهُوَ يَقُولُ: لَيْتَ بِلَالًا لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهِ وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ فَنَادَى ثَلَاثًا: إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ مُرْسَلًا وَالْأَحَادِيثُ الصِّحَاحُ الَّتِي تَقَدَّمَ ذِكْرُهَا مَعَ فِعْلِ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ أَوْلَى بِالْقَبُولِ مِنْهُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حمید سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کو اذان دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ واپس جا اور تین مرتبہ اعلان کر کہ بندہ سو گیا تھا“، وہ کہہ رہے تھے کہ کاش بلال کی ماں اس کو جنم نہ دیتی اور انہوں نے اپنی پیشانی کو خون کے چھینٹوں سے تر کیا اور تین مرتبہ اعلان کیا کہ ”بندہ سو گیا تھا۔“
اسی طرح ایک جماعت نے اسے حمید بن ہلال سے مرسل روایت کیا ہے، اور جو صحیح احادیث پہلے ذکر ہو چکی ہیں وہ اہل حرمین کے عمل کے ساتھ اس سے زیادہ قبول کیے جانے کے لائق ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1803]
اسی طرح ایک جماعت نے اسے حمید بن ہلال سے مرسل روایت کیا ہے، اور جو صحیح احادیث پہلے ذکر ہو چکی ہیں وہ اہل حرمین کے عمل کے ساتھ اس سے زیادہ قبول کیے جانے کے لائق ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1803]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الدار قطني 1/244»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1804
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ثنا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ثنا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا"، قُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ؟ قَالَ: لَا، لَمْ يَزَلِ الْأَذَانُ عِنْدَنَا بِلَيْلٍ".
شعیب بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے کہا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم نہیں دیا کہ اذان لوٹائیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو۔“ میں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم نہیں دیا کہ اذان لوٹائیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہمیشہ ہمارے نزدیک اذان رات کو ہی رہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1804]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح