🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

374. -- باب: لا يؤذن إلا طاهر
-- باب: صرف باطہارت (باوضو) شخص ہی اذان دے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1858
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ثنا ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ" هَكَذَا رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ وَغَيْرِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ.
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف باوضو شخص اذان دے۔“
(ب) زہری سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز کی اذان صرف باوضو شخص دے۔
اسے اس طرح (مرفوع) معاویہ بن یحییٰ صدفی نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، صحیح یونس بن یزید ایلی وغیرہ کی زہری سے روایت ہے جس میں یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1858]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الترمذي 200»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1859
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ ثنا عَبْدَانُ ثنا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ ثنا عُمَيْرُ بْنُ عِمْرَانَ الْعَلَّافُ ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" حَقٌّ وَسُنَّةٌ مَسْنُونَةٌ أَنْ لَا يُؤَذِّنَ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ وَلَا يُؤَذِّنُ إِلَّا وَهُوَ قَائِمٌ" عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلٌ وَهُوَ قَوْلُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: كَانُوا لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يُؤَذِّنَ الرَّجُلُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَقَتَادَةُ وَالْكَلَامُ فِيهِ يَرْجِعُ إِلَى اسْتِحْبَابِ الطَّهَارَةِ فِي الْأَذْكَارِ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ.
(الف) عبد الجبار بن وائل رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حق اور سنت یہ ہے کہ صرف باوضو شخص کھڑے ہو کر اذان دے۔ (ب) عبد الجبار بن وائل رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت نقل کرتے ہیں۔ یہ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا قول ہے۔ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ بغیر وضو اذان دینے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، یہی قول حسن بصری رحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ کا ہے، لیکن وضو کے ساتھ اذان مستحب ہے، یہ بات کتاب الطہارۃ میں گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں