السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
421. -- باب: الدليل على أنه لا يبلغ بتأخيرها آخر وقتها
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ ظہر کی نماز مؤخر کرنے سے اسے آخری وقت تک نہیں پہنچایا جائے گا
حدیث نمبر: 2070
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارْبَرْدِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ أنبأ عَبْدَانُ أنبأ عَبْدُ اللهِ أنبأ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ سَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتِّقَاءَ الْحَرِّ" ⦗٦٤٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ غَالِبٍ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے تھے تو گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2070]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 517»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2071
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ بِإِسْفَرَائِينَ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُوسَى أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ فِي أَيَّامِ الشِّتَاءِ وَمَا نَدْرِي مَا مَضَى مِنَ النَّهَارِ أَكْثَرَ أَوْ مَا بَقِيَ" وَفِي هَذَا إِنْ صَحَّ كَالدِّلَالَةِ عَلَى الْفَرْقِ بَيْنَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ فِي وَقْتِ صَلَاتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ خَبَرَ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ أَخَّرَهَا فِي الْحَرِّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُبْلَغْ بِتَأْخِيرِهَا آخِرَ وَقْتِهَا فَكَانُوا يَجِدُونَ مَعَ التَّأْخِيرِ حَرَّ الرِّمَالِ وَالْبَطْحَاءِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سردیوں میں نماز (ایسے وقت میں) پڑھتے تھے کہ ہمیں یہ پتہ نہ چلتا تھا کہ دن کا اکثر حصہ گزر چکا ہے یا ابھی باقی ہے (دن کا جو حصہ گزر چکا ہے وہ زیادہ ہے یا جو باقی رہ گیا)۔
اگر یہ روایت صحیح ہے تو یہ دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں موسم سرما اور موسم گرما کے لحاظ سے فرق تھا۔ حضرت ابوبکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ کی روایت اس پر محمول ہوگی کہ نماز ظہر کا گرمی میں مؤخر کرنا اس کے آخری وقت کو نہ پہنچے، نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کو مؤخر کرنے کے باوجود ٹیلوں اور وادیوں کی گرمی کو محسوس کرتے تھے۔ واللہ اعلم! [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2071]
اگر یہ روایت صحیح ہے تو یہ دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں موسم سرما اور موسم گرما کے لحاظ سے فرق تھا۔ حضرت ابوبکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ کی روایت اس پر محمول ہوگی کہ نماز ظہر کا گرمی میں مؤخر کرنا اس کے آخری وقت کو نہ پہنچے، نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کو مؤخر کرنے کے باوجود ٹیلوں اور وادیوں کی گرمی کو محسوس کرتے تھے۔ واللہ اعلم! [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2071]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 3/135»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره