السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
440. -- باب: الدليل على إباحة ذلك على أي مركوب كان ناقة أو حمارا
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ یہ رخصت ہر قسم کی سواری پر مباح ہے خواہ وہ اونٹنی ہو یا گدھا
حدیث نمبر: 2205
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي سُبْحَتَهُ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ نَاقَتُهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نفل نماز اسی جہت کی طرف ادا فرما لیتے جدھر آپ کی اونٹنی کا منہ ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2205]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قد تقدم تخريجه 2202»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2206
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُوَجَّهٌ إِلَى خَيْبَرَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا: آپ دراز گوش (گدھے) پر بیٹھے نماز ادا فرما رہے تھے اور اس کا منہ خیبر کی طرف تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2206]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2207
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هَمَّامٌ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ ⦗٨⦘ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: لَقِينَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ فَلَقِيتُهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ مِنْ هَذَا الْجَانِبِ، يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ" فَقَالَ:" لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ مَا فَعَلْتُهُ، وَفِي حَدِيثِ عَفَّانَ وَوَجْهُهُ ذَلِكَ الْجَانِبَ وَأَوْمَى هَمَّامٌ عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: لَمْ أَفْعَلْهُ، يَعْنِي التَّطَوُّعَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَبَّانَ، عَنْ هَمَّامٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَفَّانَ.
(الف) انس بن سیرین سے روایت ہے کہ جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام سے آئے تو ہم آپ سے ملنے گئے۔ میری ان سے ”عین التمر“ کے مقام پر ملاقات ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہ گدھے پر بیٹھے نماز ادا کر رہے تھے اور آپ کا چہرہ قبلہ کی بائیں جانب تھا، میں نے ان سے عرض کیا: میں آپ کو غیر قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے نماز پڑھتے دیکھ رہا ہوں! انہوں نے فرمایا: ”اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں اس طرح کبھی نہ کرتا۔“
(ب) اور عفان کی حدیث میں ہے کہ ان کا چہرہ اسی جانب تھا، ہمام نے اشارے سے بتایا کہ قبلہ کی بائیں جانب، اس روایت کے آخر میں ہے کہ ”پھر میں بھی اس طرح نہ کرتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2207]
(ب) اور عفان کی حدیث میں ہے کہ ان کا چہرہ اسی جانب تھا، ہمام نے اشارے سے بتایا کہ قبلہ کی بائیں جانب، اس روایت کے آخر میں ہے کہ ”پھر میں بھی اس طرح نہ کرتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1049»
الحكم على الحديث: صحيح