🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

445. -- باب: ما في صلاته الوتر على الراحلة من الدلالة على أن الوتر ليس بواجب
-- باب: سواری پر نمازِ وتر ادا کرنے میں اس بات کی دلالت کا بیان کہ وتر واجب نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2225
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو ⦗١٣⦘ بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ" فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ:" لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ" مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اسلام کے (احکام کے) بارے میں سوال کرنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن رات میں پانچ نمازیں (ادا کرو)۔“ اس نے عرض کیا: کیا میرے ذمے اس کے علاوہ کوئی اور نماز بھی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ہاں نوافل ادا کرسکتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2225]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 46»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2226
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ قَالَ الْمُخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذِبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنَّ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ".
ابن محیریز سے روایت ہے کہ بنو کنانہ کا ایک آدمی جسے مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام میں ابو محمد نامی ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ وتر واجب ہیں۔ مخدجی کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا اور وہ مسجد کی طرف جا رہے تھے تو میں ان کے راستے میں آگیا۔ میں نے انہیں اس کے بارے میں بتایا جو ابو محمد نے کہا تھا کہ وتر واجب ہیں، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابو محمد جھوٹ بولتا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو انہیں اس طرح ادا کرے کہ ان کے حق کو ہلکا سمجھتے ہوئے ان میں سے کچھ بھی ضائع نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لیے عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو ان نمازوں کو ضائع کر دے گا تو اللہ تعالیٰ کا اس کے بارے میں کوئی عہد نہیں، اگر چاہے تو اس کو عذاب دے اور اگر چاہے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2226]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه المالك في الموطا 1/361»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2227
وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ وَأَنَا أَسْمَع، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَهُوَ قَوْلُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَكُلُّ ذَلِكَ مَعَ سَائِرِ الْآثَارِ الْوَارِدَةِ فِيهِ، مَوْضِعُهَا بَابُ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ.
(ا) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وتر فرض نہیں، سنت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنت قرار دیا ہے۔“
(ب) یہ سیدنا عبادہ بن صامت اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ اس موضوع سے متعلق دیگر روایات جو وارد ہوئی ہیں، ان کا ذکر باب التطوع میں ہوگا کیونکہ اس کا محل وہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2227]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں