🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

483. -- باب: فرض القراءة في كل ركعة بعد التعوذ
-- باب: تعوذ کے بعد ہر رکعت میں قراءت کے فرض ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2360
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ، وَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" قَالَ: فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا يُصَلِّي، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي قَالَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا" أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے، ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز ادا کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ آدمی واپس چلا گیا اور نماز پڑھی، پھر دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» ”تم پر بھی سلام ہو، لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ حتیٰ کہ اس نے تین بار یہ کام کیا، آخر بولا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ ایسا کریں مجھے سکھلا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ، پھر قرآن میں سے جو تجھے آسان لگے پڑھ، پھر اطمینان سے رکوع کر، پھر رکوع سے سر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہو جا، پھر اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ جا، پھر اسی طرح مکمل نماز ادا کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2360]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 793»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ أَبِي عَلِيٍّ بَيَّاعِ الْأَنْمَاطِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ⦗٥٦⦘ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ أُنَادِيَ: لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقُرْآنٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں: ”قرآن کی تلاوت کے بغیر نماز قبول نہیں ہے، سورہ فاتحہ پڑھ لے اور اس سے زیادہ کچھ اور بھی پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2361]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 2/ 428، 9525»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2362
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ يَعْلَى، وَعُبَيْدُ اللهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: سَأَلْنَا خَبَّابًا أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى وَالْعَصْرِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قُلْنَا: بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ قَالَ:" بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
ابو معمر سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر وعصر کی نماز میں قراءت کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! ہم نے پوچھا: تم کس طرح جان لیتے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے حرکت کرنے سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2362]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحميدي 156»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں