🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

503. -- باب: السنة في تطويل الأوليين وتخفيف الأخريين
-- باب: پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرنے اور آخری دو کو مختصر کرنے کی سنت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2481
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو عَمْرٍو شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ".
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اہل کوفہ نے ہر بات میں تمہاری شکایت کی ہے حتیٰ کہ نماز میں بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2481]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 770»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2482
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَاللَّفْظُ لِسُلَيْمَانَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى الصَّلَاةِ" قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَدَقْتَ، ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ" وَفِي حَدِيثِ شَبَابَةَ فَأَمُدُّ بِهِمْ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ بِهِمْ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَقَالَ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
(ا) ابوعون سے روایت ہے کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اہل کوفہ نے ہر بات میں حتیٰ کہ نماز میں بھی تیری شکایت کی ہے۔ انہوں نے عرض کیا: میں تو پہلی دو رکعتیں لمبی کرتا ہوں اور آخری دو رکعتیں مختصر کر کے پڑھتا ہوں اور یہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے لیا ہے، اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کرتا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے سچ فرمایا، تم سے یہی گمان تھا۔
(ب) شبابہ کی حدیث میں ہے کہ میں انہیں پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو اسحاق! میرا تمہارے بارے میں یہی گمان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2482]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2483
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ بِالطَّابَرَانِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:" شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ فَعَزَلَهُ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا فَشَكَوْا حَتَّى ذَكَرُوا أَنَّهُ لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ هَؤُلَاءِ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَا تُحْسِنُ تُصَلِّي قَالَ: أَمَّا أَنَا وَاللهِ، فَإِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَخْرِمُ عَنْهَا أُصَلِّي صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَأَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ، فَأَرْسَلَ مَعَهُ رَجُلًا أَوْ ⦗٩٥⦘ رِجَالًا إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْأَلُ عَنْهُ أَهْلَ الْكُوفَةِ فَلَمْ يَدَعْ مَسْجِدًا إِلَّا سَأَلَ عَنْهُ، وَيُثْنُونَ مَعْرُوفًا حَتَّى دَخَلَ مَسْجِدَ بَنِي عَبْسٍ، فَجَلَسَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ أُسَامَةُ بْنُ قَتَادَةَ يُكْنَى أَبَا سَعْدَةَ قَالَ: أَمَا إِذَا أَنَشَدْتَنَا فَإِنَّ سَعْدًا كَانَ لَا يَسِيرُ بِالسَّرِيَّةِ، وَلَا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ وَلَا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ، قَالَ سَعْدٌ: أَمَا وَاللهِ لَأَدْعُوَنَّ اللهَ بِثَلَاثٍ:" اللهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هَذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهُ وَأَطِلْ فَقْرَهُ وَعَرِّضْهُ بِالْفِتَنِ، وَكَانَ بَعْدُ إِذْ يُسْأَلُ يَقُولُ: شَيْخٌ كَبِيرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعْدٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ مِنَ الْكِبَرِ، وَإِنَّهُ لَيَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِي فِي الطُّرُقِ يَغْمِزُهُنَّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوفہ والوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شکایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں معزول کر دیا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ والوں کا حاکم بنایا۔ کوفہ والوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی کئی شکایتیں کیں، حتیٰ کہ یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہا: اے ابو اسحاق! کوفہ کے لوگ کہتے ہیں کہ تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے۔ انہوں نے عرض کیا: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان کو اسی طرح نماز پڑھاتا تھا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھایا کرتے تھے۔ میں نے اس میں ذرا کوتاہی نہیں کی۔ میں عشا کی نماز پڑھاتا ہوں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا اور بعد والی دو رکعتوں کو ہلکا کرتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو اسحاق! تم سے یہی گمان تھا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ ایک یا چند آدمی روانہ کر کے کہا کہ کوفہ والوں سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایات دریافت کریں۔ انہوں نے کوئی مسجد نہ چھوڑی جہاں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں نہ پوچھا ہو۔ سب نے ان کی تعریف ہی کی۔ پھر بنی عبس کی مسجد میں گئے، وہاں ایک شخص کھڑا ہوا جسے اسامہ بن قتادہ کہتے تھے، اس کی کنیت ابو سعدہ تھی۔ اس نے کہا: جب تم ہمیں قسم دیتے ہو تو سچ یہ ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کسی فوج کے ساتھ لڑائی کے لیے نہیں جاتے تھے اور مالِ غنیمت برابر تقسیم نہیں کرتے تھے اور جھگڑے میں انصاف کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھتے تھے۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: خدا کی قسم! میں تیرے لیے تین بددعائیں کروں گا۔ ”اے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر لمبی کر اور مدت تک اس کو فقر سے دوچار رکھ اور فتنوں میں مبتلا رکھ۔“ پھر اس شخص کا یہی حال ہوا، اس کے بعد جب اس سے کوئی حال پوچھتا تو کہتا: میں ایک بوڑھا ہوں، میرا یہ حال سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا کی وجہ سے ہوا ہے۔ عبدالملک کہتے ہیں: میں نے بھی اسے دیکھا تھا، وہ اتنا بوڑھا ہو گیا تھا کہ اس کی ابروئیں آنکھوں پر آ گئی تھیں اور وہ راستوں میں کھڑا ہو کر دوشیزاؤں کو آنکھیں مارتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2483]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 755»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں