السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
505. -- باب: من قال يسوي بين الركعتين الأوليين إذا لم ينتظر أحدا ثم بين الأخريين
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا کہ جب کسی کا انتظار نہ کر رہا ہو تو پہلی دو رکعتوں کو اور پھر آخری دو رکعتوں کو آپس میں برابر رکھے
حدیث نمبر: 2490
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ:" كُنَّا نُحْرِزُ قِيَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى نِصْفٍ مِنْ ذَلِكَ، وَحَرَزْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَالْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ هُشَيْمٍ وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَقَدْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَلَى مَا مَضَى ذِكْرُهُ.
(ا) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ظہر اور عصر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ لگا لیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں اتنا قیام فرمایا جتنی دیر میں تیس آیتوں کی، یعنی ﴿سورة السجدة﴾ کی تلاوت کی جاسکے اور آخری دو رکعتوں میں پہلی دونوں کے نصف کے برابر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر اور عصر کی آخری دو رکعتوں میں پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر۔
(ب) ابو عوانہ نے اس حدیث کو منصور سے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ آپ ہر رکعت میں تیس آیتوں کے برابر پڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2490]
(ب) ابو عوانہ نے اس حدیث کو منصور سے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ آپ ہر رکعت میں تیس آیتوں کے برابر پڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2490]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 2477»
الحكم على الحديث: صحيح