السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
508. -- باب: من لم يذكر الرفع إلا عند الافتتاح
-- باب: اس شخص کی روایت کا بیان جس نے صرف نماز شروع کرتے وقت کے علاوہ ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا
حدیث نمبر: 2538
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الصَّائِغُ، بِمَرْوَ ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْخَطَّابِ السُّلَمِيُّ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ، ثنا وَكِيعٌ قَالَ:" صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَإِذَا أَبُو حَنِيفَةَ قَائِمٌ يُصَلِّي، وَابْنُ الْمُبَارَكِ إِلَى جَنْبِهِ يُصَلِّي، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَأَبُو حَنِيفَةَ لَا يَرْفَعُ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لِعَبْدِ اللهِ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تُكْثِرُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ، أَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: يَا أَبَا حَنِيفَةَ قَدْ رَأَيْتُكَ تَرْفَعُ يَدَيْكَ حِينَ افْتَتَحْتَ الصَّلَاةَ فَأَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ فَسَكَتَ أَبُو حَنِيفَةَ" قَالَ وَكِيعٌ فَمَا رَأَيْتُ جَوَابًا أَحْضَرَ مِنْ جَوَابِ عَبْدِ اللهِ، لِأَبِي حَنِيفَةَ.
وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کوفہ کی مسجد میں نماز ادا کی، کیا دیکھتا ہوں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے لیکن رفع یدین نہیں کر رہے تھے، جبکہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ ان کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے۔ عبداللہ رحمہ اللہ جب بھی رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ نہیں کر رہے تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے عبداللہ رحمہ اللہ سے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو اتنا زیادہ رفع یدین کرتا ہے گویا اڑنے لگا ہے۔“ تو عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”اے ابوحنیفہ! میں نے آپ کو دیکھا، آپ نے نماز کے شروع میں رفع یدین کیا، کیا آپ اس وقت اڑنا چاہتے تھے؟“ ابوحنیفہ رحمہ اللہ یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ رحمہ اللہ کو ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے سامنے حاضر جوابی سے زیادہ کسی کی حاضر جوابی نہیں دیکھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2538]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدا
حدیث نمبر: 2539
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمَيْحٍ ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّبَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: اجْتَمَعَ الْأَوْزَاعِيُّ وَالثَّوْرِيُّ بِمِنًى، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ لِلثَّوْرِيِّ" لِمَ لَا تَرْفَعُ يَدَيْكَ فِي خَفْضِ الرُّكُوعِ وَرَفْعِهِ؟" فَقَالَ الثَّوْرِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ" أَرْوِي لَكَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، ⦗١١٨⦘ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُعَارِضُنِي بِيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَيَزِيدُ رَجُلٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَحَدِيثُهُ مُخَالِفٌ لِلسُّنَّةِ" قَالَ: فَاحْمَارَّ وَجْهُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ:" كَأَنَّكَ كَرِهْتَ مَا قُلْتُ" قَالَ الثَّوْرِيُّ: نَعَمْ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ:" قُمْ بِنَا إِلَى الْمَقَامِ نَلْتَعِنُ أَيُّنَا عَلَى الْحَقِّ" قَالَ: فَتَبَسَّمَ الثَّوْرِيُّ لَمَّا رَأَى الْأَوْزَاعِيَّ قَدِ احْتَدَّ".
سلیمان بن داؤد شاذکونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ اور سفیان ثوری رحمہ اللہ منیٰ میں اکٹھے ہوئے تو اوزاعی رحمہ اللہ نے ثوری رحمہ اللہ سے کہا: آپ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفعِ یدین کیوں نہیں کرتے؟ ثوری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہمیں یزید بن ابی زیاد نے حدیث بیان کی ہے، تو امام اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں تجھے زہری عن سالم عن ابیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتا ہوں اور تو میرے سامنے یزید بن ابی یزید کی حدیث بیان کرتا ہے، حالانکہ یزید ضعیف راوی ہے اور اس کی حدیث سنت کے مخالف ہے؟ راوی فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ کا چہرہ سرخ ہو گیا تو اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: لگتا ہے آپ کو میری بات بری لگی ہے؟ تو ثوری رحمہ اللہ نے کہا: جی ہاں! اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے ساتھ اس جگہ کھڑے ہو جاؤ، ہم ایک دوسرے پر لعنت کریں کہ ہم میں سے کون حق پر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ثوری رحمہ اللہ نے جب دیکھا کہ اوزاعی رحمہ اللہ غصہ ہو گئے ہیں تو وہ مسکرانے لگے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2539]
تخریج الحدیث: «موضوع الشاذ۔ كوفي كذا بان»
الحكم على الحديث: موضوع الشاذ
حدیث نمبر: 2540
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْذَعِيُّ بِبُخَارَا، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْأَشْتِيخَنِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّبَرِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ الْمَرْوَزِيِّ.
ایک دوسری سند سے اس کے ہم معنی روایت بھی موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2540]
تخریج الحدیث: «موضوع۔ الطبري كذاب»
الحكم على الحديث: موضوع