السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
561. -- باب: ما يفعل في كل ركعة وسجدة من الصلاة ما وصفنا
-- باب: نماز کی ہر رکعت اور سجدے میں وہی کچھ کیا جائے گا جو ہم نے بیان کیا ہے
حدیث نمبر: 2765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ، أَحَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ ⦗١٨٢⦘ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ اقْعُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ افْعَلْ كَذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ" فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ: نَعَمْ كَذَا قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَرِوَايَتُهُ كَذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ اس آدمی نے نماز ادا کی، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» ”تم پر بھی سلام ہو، اور جا کر نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ پلٹا اور دوبارہ نماز پڑھی، پھر آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی طرح فرمایا۔ جب تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہی بات کہی تو اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے سکھا دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اچھی طرح وضو کر، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ، پھر قرآن سے جو تجھے آسان لگے پڑھ، پھر انتہائی اطمینان سے رکوع کر، پھر رکوع سے سر اٹھا یہاں تک کہ تو سیدھا کھڑا ہوجائے، پھر سجدہ کر، پھر سجدے سے اٹھ کر سیدھا بیٹھ جا، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ دوسرا سجدہ کر، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ سیدھا بیٹھ جا، پھر اسی طرح ہر رکعت میں کر۔“
ابواسامہ نے اس (روایت) کا اقرار کیا اور کہا: ”جی ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2765]
ابواسامہ نے اس (روایت) کا اقرار کیا اور کہا: ”جی ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 757»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2766
وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ أَبِي قُدَامَةَ، وَيُوسُفَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ:" ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ،.
ابواسامہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ، پھر اطمینان سے دوسرا سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہو جا۔ اسی طرح اپنی نماز مکمل کر۔“
صحیح روایت عبیداللہ بن سعید ابوقدامہ اور یوسف بن موسیٰ کی ابواسامہ سے یہی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2766]
صحیح روایت عبیداللہ بن سعید ابوقدامہ اور یوسف بن موسیٰ کی ابواسامہ سے یہی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2767
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَابْنِ نُمَيْرٍ إِلَّا أَنَّهُ أَحَالَهُ عَلَى رِوَايَةِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَلَمْ يَسُقِ الْمَتْنَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى السُّجُودَ الثَّانِي وَلَا مَا بَعْدَهُ مِنَ الْقُعُودِ أَوِ الْقِيَامِ، وَالْقِيَامُ أَشْبَهُ بِمَا سِيقَ الْخَبَرُ لِأَجْلِهِ مِنْ عَدِّ الْأَرْكَانِ دُونَ السُّنَنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(الف) ایک دوسری سند سے اسی جیسی روایت منقول ہے۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دوسرے سجدے سے سر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہو جا۔“
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں بھی یہ روایت ذکر کی ہے۔
یحییٰ کی روایت میں دوسرے سجدے کا ذکر نہیں اور نہ ہی دوسرے سجدے کے بعد جلسہ استراحت کا ذکر ہے اور نہ قیام کا ذکر کیا ہے۔
(ج) اور قیام زیادہ مشابہ ہے، کیونکہ ارکان کو شمار کیا جا رہا ہے نہ کہ سنن کو (واللہ اعلم)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2767]
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں بھی یہ روایت ذکر کی ہے۔
یحییٰ کی روایت میں دوسرے سجدے کا ذکر نہیں اور نہ ہی دوسرے سجدے کے بعد جلسہ استراحت کا ذکر ہے اور نہ قیام کا ذکر کیا ہے۔
(ج) اور قیام زیادہ مشابہ ہے، کیونکہ ارکان کو شمار کیا جا رہا ہے نہ کہ سنن کو (واللہ اعلم)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2767]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2768
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو ⦗١٨٣⦘ بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ:" رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ" ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَعُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع کے وقت تکبیر کہتے، پھر رکوع سے اٹھتے ہوئے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، پھر جب سیدھے کھڑے ہو جاتے تو کہتے: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“، پھر سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر کہتے، پھر سجدے سے سر اٹھاتے وقت بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے۔ پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت بھی تکبیر کہتے، پھر دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے وقت بھی تکبیر کہتے۔ مکمل نماز اس طرح ادا کرتے۔ اسی طرح دو رکعتوں کے بعد تشہد سے اٹھتے وقت بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 789»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ قَالَ: أَتَيْنَا عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ أَبَا مَسْعُودٍ فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا فِي مَسْجِدٍ فَكَبَّرَ، فَلَمَّا" رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بَيْنَ مِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقَامَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ جَافَى بِمِرْفَقَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَجَلَسَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا، ثُمَّ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِثْلَ هَذِهِ الرَّكْعَةِ يُصَلِّي صَلَاتَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي".
سالم براد سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بیان کریں۔ وہ ہمارے سامنے مسجد میں کھڑے ہوئے، انہوں نے تکبیر کہی، پھر جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر اور اپنی انگلیوں کو ان سے تھوڑا نیچے رکھا اور دونوں کہنیوں کے درمیان وقفہ رکھا حتیٰ کہ ہر عضو اپنی جگہ ٹھہر گیا۔ پھر کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، پھر کھڑے ہوئے حتیٰ کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ ٹھہر گیا۔ پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھا اور کہنیوں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھا حتیٰ کہ ہر عضو اپنی جگہ ٹھہر گیا، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور بیٹھ گئے حتیٰ کہ ہر عضو اپنی جگہ برابر ہو گیا۔ پھر اسی طرح دوسرا سجدہ کیا، پھر اسی طرح چار رکعتیں ادا کیں۔ پھر فرمایا: ”اسی طرح ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2769]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 16633»
الحكم على الحديث: صحيح