السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
592. -- باب: هل يصلى على غير النبي صلى الله عليه وسلم وقول الله عز وجل وصل عليهم إن صلاتك سكن لهم
-- باب: کیا نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی اور پر درود (رحمت کی دعا) بھیجا جا سکتا ہے اور اللہ عزوجل کے اس فرمان کا بیان کہ ”اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، یقیناً آپ کی دعا ان کے لیے تسکین ہے“
حدیث نمبر: 2874
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي الْوَلِيدِ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَاتِهِمْ قَالَ:" اللهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ" فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَةٍ، فَقَالَ:" اللهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
عمرو بن مرہ فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور وہ بیعتِ رضوان والوں میں سے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب لوگ صدقات کا مال لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ» ”اے اللہ! ان پر اپنی رحمت نازل فرما۔“ میرے والد محترم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی زکوۃ کا مال لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» ”اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحمت بھیج۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2874]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1498»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2875
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الله عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے لیے اور میرے خاوند کے لیے برکت کی دعا کریں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكِ وَعَلٰى زَوْجِكِ» “ ”اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر رحمت نازل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2875]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2876
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" مَا يَنْبَغِي الصَّلَاةُ مِنْ أَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ بِهِ الصَّلَاةَ الَّتِي هِيَ تَحِيَّةٌ لَذِكْرِهِ عَلَى وَجْهِ التَّعْظِيمِ، فَأَمَّا صَلَاتُهُ عَلَى غَيْرِهِ فَإِنَّهَا كَانَتْ بِمَعْنَى الدُّعَاءِ وَالتَّبْرِيكِ وَتِلْكَ جَائِزَةٌ عَلَى غَيْرِهِ.
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کا کسی دوسرے پر درود بھیجنا جائز نہیں ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما درود سے خصوصی درود جو آپ کے نام کے ساتھ پڑھا جاتا ہے مراد لیتے تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی وجہ سے تھا۔ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی صلاۃ، دعا اور برکت کے معنیٰ میں ہو گی اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کے لیے جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2876]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما درود سے خصوصی درود جو آپ کے نام کے ساتھ پڑھا جاتا ہے مراد لیتے تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی وجہ سے تھا۔ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی صلاۃ، دعا اور برکت کے معنیٰ میں ہو گی اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کے لیے جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2876]
تخریج الحدیث: «جيد۔ اخرجه الطبراني 11813»
الحكم على الحديث: جيد