السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
597. -- باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2933
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنبأ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَنْ مَوْلًى لَهُمْ عَنْ جَابِرٍ قَالَا:" يَقْرَأُ الْإِمَامُ وَمَنْ خَلْفَهُ فِي الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" وَسَمَاعُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَابِتٌ وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَأْمُرُ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ وَهُوَ مُرْسَلٌ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ مِنَ الْمَوْصُولِ، وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى ضَعْفِ مَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِهِ بِأَسَانِيدَ لَا يَسْوَى ذِكْرَهَا لِضَعْفِهَا. ⦗٢٤٠⦘ وَمِنْهُمْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
(ا) سیدنا علی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ امام اور مقتدی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں جبکہ بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھیں۔ ان میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
عبیداللہ بن ابی رافع کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے، وہ آپ کے کاتب تھے۔
(ب) ہمیں حماد اور حکم کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے جو گزشتہ موصول روایت کی شاہد ہے، اور ان سب میں اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف جو کچھ ایسی سندوں سے مروی ہے جو اپنے ضعف کی وجہ سے ذکر کے قابل نہیں، وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2933]
عبیداللہ بن ابی رافع کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے، وہ آپ کے کاتب تھے۔
(ب) ہمیں حماد اور حکم کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے جو گزشتہ موصول روایت کی شاہد ہے، اور ان سب میں اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف جو کچھ ایسی سندوں سے مروی ہے جو اپنے ضعف کی وجہ سے ذکر کے قابل نہیں، وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2933]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عن علي ولا يصح عن جابر»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2934
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقُلْتُ لَهُ: تَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ؟ فَقَالَ عُبَادَةُ:" لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ".
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا تو میں نے انہیں کہا کہ کیا آپ امام کے پیچھے بھی قراءت کرتے ہیں؟ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2934]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ (اسناده صحيح) وهو ثابت ايضا مرفوع بلفظهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2935
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِي، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي النَّضْرِ قَالَ: سَمِعْتُ حَمَلَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ، فَأَتَاهُ فَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَقَالَ:" لَا تَشَبَّهُوا بِهَذَا وَلَا بِأَمْثَالِهِ، إِنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَإِنْ كُنْتَ خَلْفَ إِمَامٍ فَاقْرَأْ فِي نَفْسِكَ، وَإِنْ كُنْتَ وَحْدَكَ فَأَسْمِعْ أُذُنَيْكَ، وَلَا تُؤْذِ مَنْ عَنْ يَمِينِكَ، وَمَنْ عَنْ يَسَارِكَ" هُوَ مُسْلِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَكِّيُّ الشَّامِيُّ، وَمَذْهَبُ عُبَادَةَ فِي ذَلِكَ مَشْهُورٌ وَمِنْهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جو نہ رکوع مکمل کر رہا تھا اور نہ سجدے، عبادہ رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس آئے، اس کا ہاتھ پکڑا اور (دیگر لوگوں سے مخاطب ہوئے) فرمایا: اس کی نماز کی اتباع نہ کرو کیونکہ ”سورۃ الفاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔“ اگر تم امام کے پیچھے ہو تو اس کو اپنے دل میں پڑھا کرو اور اگر علیحدہ نماز پڑھ رہے ہو تو اپنی آواز صرف اپنے کانوں تک محدود رکھو اور اپنے دائیں بائیں والوں کو (اونچا پڑھ کر) تکلیف مت دو۔ اس بارے میں عبادہ رضی اللہ عنہ کا مذہب مشہور ہے، ان میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2935]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2936
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ، ثنا إِسْحَاقُ الرَّازِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ:" سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنِ كَعْبٍ أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
عبداللہ بن ابی ہذیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، قراءت کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2936]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2937
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَلْفَ الْإِمَامِ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ" وَمِنْهُمْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
عبداللہ بن زیاد اسدی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں امام کے پیچھے نماز ادا کی تو میں نے انہیں ظہر اور عصر میں قراءت کرتے سنا، ان میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2937]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2938
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شَيْبَةَ الْمَهْرِيَّ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، عَنِ الْقِرَاءَةِ، خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ:" إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، وَإِذَا لَمْ تَسْمَعْ فَاقْرَأْ فِي نَفْسِكَ، وَلَا تُؤْذِ مَنْ عَنْ يَمِينِكَ، وَلَا مَنْ عَنْ شِمَالِكَ" وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
ابو فیض سے روایت ہے کہ میں نے ابو شیبہ مہری کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے قرات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جب امام جہراً قرات کرے تو سورہ فاتحہ اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھ لے اور جب سری نماز ہو تو بھی اپنے دل میں سورہ فاتحہ پڑھ اور اپنے دائیں بائیں والوں کو تکلیف نہ دے۔ ان میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2938]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2939
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" اقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھ لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2939]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شبية 3773»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2940
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا ⦗٢٤٢⦘ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا ابْنُ عَرَفَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" لَا تَدَعْ أَنْ تَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ خَلْفَ الْإِمَامِ، جَهَرَ أَوْ لَمْ يَجْهَرْ" وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَدْ مَضَتْ رِوَايَةُ أَبِي الْأَزْهَرِ الضُّبَعِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ امام کے پیچھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا مت چھوڑو، چاہے امام جہری قراءت کرے یا سری کرے۔
(ب) ان میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بھی ہیں، ابو ازہر ضبعی کی ابوعالیہ کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2940]
(ب) ان میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بھی ہیں، ابو ازہر ضبعی کی ابوعالیہ کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2940]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن عبدالرزاق 2773»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2941
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ حُصَيْنٌ قَالَ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ" فَلَقِيتُ مُجَاهِدًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ مُجَاهِدٌ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ" يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ".
حصین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کے پہلو میں نماز ادا کی تو میں نے انہیں امام کے پیچھے قرات کرتے سنا، چنانچہ میں مجاہد رحمہ اللہ سے ملا تو ان کے سامنے میں نے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو امام کے پیچھے ظہر کی نماز میں سورہ مریم کی آیات تلاوت کرتے سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2941]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شبية 3750»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2942
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو،" يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ" هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَكَذَلِكَ مَا قَبْلَهُ كَذَا قَالَ، وَمِنْهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ مَضَتْ رِوَايَةُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمِنْهُمْ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
(ا) حصین کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو ظہر اور عصر میں امام کے پیچھے قراءت کرتے سنا۔
(ب) ان میں سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جن کی روایت گزر چکی ہے اور انہی میں سے ابودرداء رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
یہ سند صحیح ہے، اور اسی طرح اس سے پہلے والی بھی، انہوں نے اسی طرح کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2942]
(ب) ان میں سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جن کی روایت گزر چکی ہے اور انہی میں سے ابودرداء رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
یہ سند صحیح ہے، اور اسی طرح اس سے پہلے والی بھی، انہوں نے اسی طرح کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2942]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبة 3749»
الحكم على الحديث: صحيح