السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
599. -- باب: تحليل الصلاة بالتسليم
-- باب: سلام کے ذریعے نماز سے حلال ہونے (نکلنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2960
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: يَعْنِي الْإِشَارَةَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَابَةِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ لَنَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ، أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ أَحَدَهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمَ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ".
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم انگشتِ شہادت کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو، تم پر سلامتی ہو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے ہیں جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ کیا تم کو یا فرمایا: ان کو یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ کو اپنی رانوں پر رکھے، پھر اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف والے بھائی کو سلام کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2960]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 431»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2961
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، وَوَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ أَحَدُنَا أَشَارَ بِيَدِهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ:" مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَرْمِي بِيَدِهِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، إِنَّمَا يَكْفِي، أَوَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ وَيُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ؟" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ وَعَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ ⦗٢٤٧⦘ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ بِمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" أَمَا يَكْفِي لَمْ يَشُكَّ فِيهِ" وَجَعَلَ اللَّفْظَ لِابْنِ أَبِي زَائِدَةَ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے تو ہم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے دائیں اور بائیں طرف والوں کو سلام کہتا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تم ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ تمہارے لیے صرف اتنا کافی ہے“ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اس طرح کرے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت مبارکہ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”پھر اپنے دائیں اور بائیں طرف والے بھائی کو سلام کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2961]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2962
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَإِحْرَامُهَا التَّكْبِيرُ، وَإِحْلَالُهَا التَّسْلِيمُ" وَرُوِّينَا ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَغَيْرِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى ضِعْفِ.
(ا) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی چابی وضو ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر ہے اور اس کو حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔“
(ب) اس بارے میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول روایت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2962]
(ب) اس بارے میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول روایت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2962]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ وقد تقدم برقم 2261»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2963
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ" عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يُخَالِفُ مَا رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ عَنْهُ فَهُوَ مَحْجُوجٌ بِمَا رَوَاهُ هُوَ وَغَيْرُهُ، عَنْ سَيِّدَنَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي لَا حُجَّةَ فِي قَوْلِ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِهِ مَعَهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی تشہد کی مقدار نماز میں بیٹھ جائے، پھر (اس کے بعد) بے وضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی۔
امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی مخالفت کبھی نہیں کرتے، اگرچہ یہ روایت صحیح ہو پھر بھی دلیل وہ روایت ہے جو انہوں نے یا ان کے علاوہ کسی اور نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے، جس کے مقابلے میں کسی امتی کا قول حجت نہیں ہو سکتا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ہی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2963]
امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی مخالفت کبھی نہیں کرتے، اگرچہ یہ روایت صحیح ہو پھر بھی دلیل وہ روایت ہے جو انہوں نے یا ان کے علاوہ کسی اور نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے، جس کے مقابلے میں کسی امتی کا قول حجت نہیں ہو سکتا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ہی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2963]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ابي شبية 8469»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2964
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ التَّكْبِيرُ وَانْقِضَاؤُهَا التَّسْلِيمُ، إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ فَقُمْ إِنْ شِئْتَ" وَهَذَا الْأَثَرُ الصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ مَا نَقُولُ.
(أ) ابواحوص سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز کی کنجی تکبیر ہے اور اس کا ختم کرنا سلام پھیرنا ہے۔ جب امام سلام پھیر لے تو اگر تو چاہے تو کھڑا ہو جا۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول یہ صحیح اثر ہمارے قول کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2964]
(ب) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول یہ صحیح اثر ہمارے قول کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2964]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2965
فِيمَا، أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَلِيُّ بْنُ حَمَّوَيْهِ بِبُخَارَا، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي وَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ وَقَالَ:" قُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحَمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ" قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ: وَزَادَنِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنِ الْحَسَنِ" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ بَلَغَ حِفْظِي، عَنِ الْحَسَنِ فِي بَقِيَّةِ هَذَا الْحَدِيثِ" إِذَا فَعَلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ" هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَأَدْرَجُوا آخِرَ الْحَدِيثِ فِي أَوَّلِهِ، وَقَدْ أَشَارَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى إِلَى ذَهَابِ بَعْضِ الْحَدِيثِ، عَنْ زُهَيْرٍ فِي حِفْظِهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ زُهَيْرٍ وَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ الْحَدِيثِ انْمَحَى مِنْ كِتَابِهِ أَوْ خَرَقَ، وَرَوَاهُ شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ زُهَيْرٍ وَفَصَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ مِنْ أَوَّلِهِ وَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَكَأَنَّهُ أَخَذَهُ عَنْهُ قَبْلَ ذَهَابِهِ مِنْ حِفْظِهِ أَوْ مِنْ كِتَابِهِ ⦗٢٤٩⦘.
(ا) قاسم بن مخیمرہ سے روایت ہے کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حدیث بیان کی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نماز میں (پڑھا جانے والا) تشہد سکھایا اور فرمایا: ”کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔“
(ب) ابوخیثمہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث میں میرے بعض ساتھیوں نے حسن کے واسطہ سے یہ اضافہ کیا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
(ج) ابوخیثمہ کہتے ہیں کہ میری یادداشت میں حسن کے واسطہ سے اس حدیث کے بقیہ حصہ کے بارے میں یہ بات بھی پہنچی ہے: ”جب تم یہ کرلو یا اس کو مکمل کرلو تو تحقیق تمہاری نماز مکمل ہوگئی۔ اب اگر تو کھڑے ہونا چاہے تو کھڑا ہوجا اور اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔“
(د) اس حدیث کو احمد بن یونس نے زہیر سے روایت کیا ہے اور یہ خیال کیا ہے کہ اس حدیث کا کچھ حصہ ان کی کتاب سے مٹ گیا تھا یا بوسیدہ ہوگیا تھا۔
ایک جماعت نے یہ حدیث ابوخیثمہ زہیر بن معاویہ سے روایت کی ہے اور حدیث کے آخری حصے کو اس کے شروع میں داخل (مدرج) کر دیا ہے، اور یحییٰ بن یحییٰ نے اشارہ کیا ہے کہ حسن بن حر سے مروی اس حدیث کا کچھ حصہ زہیر کے حافظے سے نکل گیا تھا۔ شبابہ بن سوار نے اسے زہیر سے روایت کیا تو حدیث کے آخری حصے کو اس کے شروع سے الگ کر کے اسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا، گویا انہوں نے یہ بات زہیر سے ان کے حافظے یا کتاب سے نکل جانے سے پہلے لی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2965]
(ب) ابوخیثمہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث میں میرے بعض ساتھیوں نے حسن کے واسطہ سے یہ اضافہ کیا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
(ج) ابوخیثمہ کہتے ہیں کہ میری یادداشت میں حسن کے واسطہ سے اس حدیث کے بقیہ حصہ کے بارے میں یہ بات بھی پہنچی ہے: ”جب تم یہ کرلو یا اس کو مکمل کرلو تو تحقیق تمہاری نماز مکمل ہوگئی۔ اب اگر تو کھڑے ہونا چاہے تو کھڑا ہوجا اور اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔“
(د) اس حدیث کو احمد بن یونس نے زہیر سے روایت کیا ہے اور یہ خیال کیا ہے کہ اس حدیث کا کچھ حصہ ان کی کتاب سے مٹ گیا تھا یا بوسیدہ ہوگیا تھا۔
ایک جماعت نے یہ حدیث ابوخیثمہ زہیر بن معاویہ سے روایت کی ہے اور حدیث کے آخری حصے کو اس کے شروع میں داخل (مدرج) کر دیا ہے، اور یحییٰ بن یحییٰ نے اشارہ کیا ہے کہ حسن بن حر سے مروی اس حدیث کا کچھ حصہ زہیر کے حافظے سے نکل گیا تھا۔ شبابہ بن سوار نے اسے زہیر سے روایت کیا تو حدیث کے آخری حصے کو اس کے شروع سے الگ کر کے اسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا، گویا انہوں نے یہ بات زہیر سے ان کے حافظے یا کتاب سے نکل جانے سے پہلے لی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2965]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2966
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى إِلَى قَوْلِهِ الصَّالِحِينَ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَإِذَا قُلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ مِنَ الصَّلَاةِ فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللهُ: شَبَابَةُ ثِقَةٌ وَقَدْ فَصَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ وَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ مَنْ أَدْرَجَ آخِرَهُ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ تَابَعَهُ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ وَغَيْرُهُ فَرَوَاهُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ كَذَلِكَ آخِرُ الْحَدِيثِ مِنْ كَلَامِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: وَهِمَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ وَأَدْرَجَ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ مِنْ كَلَامِهِ وَهُوَ قَوْلُهُ:" إِذَا فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ" وَهَذَا إِنَّمَا هُوَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، كَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ.
حسن بن حر نے بھی یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کے ہم معنی روایت نقل کی ہے، یہ آپ کے قول «الصَّالِحِينَ» تک اسی طرح ہے، پھر فرمایا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تو یہ پڑھ لے تو جو نماز تجھ پر فرض تھی وہ تو مکمل کر چکا۔ (اب تیری مرضی) اگر تو کھڑا ہونا چاہے تو کھڑا ہو جا اور اگر تو بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔“
علی رحمہ اللہ نے فرمایا: شبابہ ثقہ ہیں، انہوں نے حدیث کے آخری حصے کو الگ کر کے اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے، اور یہ ان لوگوں کی روایت سے زیادہ صحیح ہے جنہوں نے اس کے آخری حصے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں داخل کر دیا ہے، واللہ اعلم۔ ابوعلی حسین بن علی حافظ نے فرمایا: زہیر کو حسن بن حر سے روایت کرنے میں وہم ہوا ہے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں وہ بات داخل کر دی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں، یعنی یہ قول: ”جب تم یہ کر لو تو تم نے اپنی نماز مکمل کر لی“، یہ تو صرف سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2966]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تو یہ پڑھ لے تو جو نماز تجھ پر فرض تھی وہ تو مکمل کر چکا۔ (اب تیری مرضی) اگر تو کھڑا ہونا چاہے تو کھڑا ہو جا اور اگر تو بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔“
علی رحمہ اللہ نے فرمایا: شبابہ ثقہ ہیں، انہوں نے حدیث کے آخری حصے کو الگ کر کے اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے، اور یہ ان لوگوں کی روایت سے زیادہ صحیح ہے جنہوں نے اس کے آخری حصے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں داخل کر دیا ہے، واللہ اعلم۔ ابوعلی حسین بن علی حافظ نے فرمایا: زہیر کو حسن بن حر سے روایت کرنے میں وہم ہوا ہے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں وہ بات داخل کر دی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں، یعنی یہ قول: ”جب تم یہ کر لو تو تم نے اپنی نماز مکمل کر لی“، یہ تو صرف سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2966]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في اللذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2967
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِيزٍ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ رِوَايَةِ شَبَابَةَ وَيَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" إِذَا فَرَغْتَ مِنْ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ فَإِنْ شِئْتَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَاقْعُدْ".
(ا) حسن بن حر سے انہی یحییٰ بن یحییٰ اور شبابہ کی حدیث کی مثل روایت ایک دوسری سند سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2967]
حدیث نمبر: 2968
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ ⦗٢٥٠⦘ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: عَلَّمَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فَذَكَرَهُ إِلَى: عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِكَ فَإِنْ شِئْتَ فَاثْبُتْ وَإِنْ شِئْتَ فَانْصَرِفْ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ: فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِكَ، إِنْ كَانَتْ مَحْفُوظَةً أَشْبَهُ بِمَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي انْقِضَاءِ الصَّلَاةِ بِالتَّسْلِيمِ وَبِمَا سَنَرْوِيهِ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّسْلِيمِ وَكَأَنَّهُ أَرَادَ خِلَافَ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلْمَأْمُومِ، أَنْ يَنْصَرِفَ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الصَّلَاةِ قَبْلَ انْصِرَافِ الْإِمَامِ، وَإِنْ كَانَتِ اللَّفْظَةُ الْأُولَى ثَابِتَةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَعْلُومٌ أَنَّ تَعْلِيمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ تَشَهُّدَ الصَّلَاةِ كَانَ فِي ابْتِدَاءِ مَا شُرِعَ التَّشَهُّدُ ثُمَّ كَانَ بَعْدَهُ شُرِعَتِ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلِيلِ قَوْلِهِمْ: قَدْ عَرَفْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ ثُمَّ شُرِعَ التَّسْلِيمُ مِنَ الصَّلَاةِ مَعَهُ أَوْ بَعْدَهُ فَصَارَ الْأَمْرُ إِلَيْهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ" وَالَّذِي يُؤَكِّدُ هَذَا.
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھائی، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ تو چاہو تو وہیں بیٹھے رہو اور چاہو تو سلام پھیر لو۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جملہ «فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِكَ» ”پس جب تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ“ ہمیں اگر محفوظ ہو تو یہ اس روایت کے زیادہ مشابہ ہے جو نماز کو سلام کے ساتھ مکمل کرنے کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پہنچی ہے اور اس کے بھی مشابہ ہے جس کو ہم عنقریب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کے بارے میں روایت کریں گے، گویا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی مراد اس کے خلاف ہے جو نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کے پھرنے سے پہلے مقتدی کے پھرنے کو جائز نہیں سمجھتا۔ اگر پہلے والے الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوں تب بھی یہ سمجھا جائے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشہد سکھانا تشہد کے مشروع ہونے کے ابتدائی وقت میں تھا۔ بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کا حکم ہوا۔ اس کی دلیل صحابہ کا یہ قول ہے: «قَدْ عَرَفْنَا السَّلَامَ» ”ہمیں سلام (کا طریقہ) معلوم ہو گیا“ یعنی سلام کا طریقہ ہمیں معلوم ہو گیا اب یہ بتائیں کہ ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ پھر اس کے بعد نماز سے سلام پھیرنا مشروع ہوا۔ سلام کی مشروعیت اس کے ساتھ ہوئی یا کچھ عرصہ بعد ہوئی۔ واللہ اعلم، اور جو بات اس کی تاکید کرتی ہے وہ (اگلی روایت) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2968]
(ب) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ تو چاہو تو وہیں بیٹھے رہو اور چاہو تو سلام پھیر لو۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جملہ «فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِكَ» ”پس جب تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ“ ہمیں اگر محفوظ ہو تو یہ اس روایت کے زیادہ مشابہ ہے جو نماز کو سلام کے ساتھ مکمل کرنے کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پہنچی ہے اور اس کے بھی مشابہ ہے جس کو ہم عنقریب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کے بارے میں روایت کریں گے، گویا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی مراد اس کے خلاف ہے جو نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کے پھرنے سے پہلے مقتدی کے پھرنے کو جائز نہیں سمجھتا۔ اگر پہلے والے الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوں تب بھی یہ سمجھا جائے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشہد سکھانا تشہد کے مشروع ہونے کے ابتدائی وقت میں تھا۔ بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کا حکم ہوا۔ اس کی دلیل صحابہ کا یہ قول ہے: «قَدْ عَرَفْنَا السَّلَامَ» ”ہمیں سلام (کا طریقہ) معلوم ہو گیا“ یعنی سلام کا طریقہ ہمیں معلوم ہو گیا اب یہ بتائیں کہ ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ پھر اس کے بعد نماز سے سلام پھیرنا مشروع ہوا۔ سلام کی مشروعیت اس کے ساتھ ہوئی یا کچھ عرصہ بعد ہوئی۔ واللہ اعلم، اور جو بات اس کی تاکید کرتی ہے وہ (اگلی روایت) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2968]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2969
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، مِنْ أَصْلِهِ أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ بِهَرَاةَ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، أنبأ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا قَضَى التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ التَّسْلِيمُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ:" وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ التَّسْلِيمُ وَهَذَا وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا فَهُوَ مُوَافِقٌ لِلْأَحَادِيثِ الْمَوْصُولَةِ الْمُسْنَدَةِ فِي التَّسْلِيمِ".
(ا) عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا حکم نازل ہونے سے پہلے جب نماز میں تشہد مکمل کر لیتے تو لوگوں کی طرف چہرہ انور کو پھیر لیتے تھے۔
(ب) ایک اور روایت میں بھی عطا رحمہ اللہ سے منقول ہے، اس میں ہے: «وَذٰلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ التَّسْلِيمُ» ”یعنی یہ سلام پھیرنے کا حکم نازل ہونے سے پہلے تھا۔“
(ج) یہ روایت اگرچہ مرسل ہے مگر سلام کے بارے میں موصول، مسند روایات کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2969]
(ب) ایک اور روایت میں بھی عطا رحمہ اللہ سے منقول ہے، اس میں ہے: «وَذٰلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ التَّسْلِيمُ» ”یعنی یہ سلام پھیرنے کا حکم نازل ہونے سے پہلے تھا۔“
(ج) یہ روایت اگرچہ مرسل ہے مگر سلام کے بارے میں موصول، مسند روایات کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2969]