السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
615. -- باب: الإمام يتحول عن مكانه إذا أراد أن يتطوع في المسجد
-- باب: جب امام مسجد میں نفل پڑھنے کا ارادہ کرے تو اس کا اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3053
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُصَلِّي سُبْحَتَهُ فِي مَقَامِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَكَأَنَّهُ كَانَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِكَلَامٍ أَوِ انْحِرَافٍ أَوْ فَعَلَ مَا يَجُوزُ فِعْلُهُ.
(ا) نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی نفل نماز اسی جگہ ادا کر لیا کرتے جہاں آپ نے فرض نماز ادا کی ہوتی۔
(ب) شاید آپ ان دونوں نمازوں کے درمیان کلام کر لیتے یا رخ وغیرہ پھیر لیتے یا کسی ایسے کام کے ساتھ فاصلہ کر دیتے جو جائز ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3053]
(ب) شاید آپ ان دونوں نمازوں کے درمیان کلام کر لیتے یا رخ وغیرہ پھیر لیتے یا کسی ایسے کام کے ساتھ فاصلہ کر دیتے جو جائز ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3053]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3054
وَكَذَلِكَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، ثنا فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرٍ الْهِلَالِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ" لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَطَوَّعَ الرَّجُلُ مَكَانَهُ" أَوْ رَآهُ فَعَلَهُ شَكَّ عَلِيٌّ وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ فَرَّقَ فِي ذَلِكَ بَيْنَ الْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ فَكَرِهَهُ لِلْإِمَامِ دُونَ الْمَأْمُومِ وَإِسْنَادُهُ غَيْرُ قَوِيٍّ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ اس بات میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ آدمی اسی جگہ نفل نماز پڑھے، یا (راوی نے کہا:) انہیں ایسا کرتے دیکھا۔ یہ شک راوی علی (بن ثابت) کو ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اس مسئلے میں امام اور مقتدی کے درمیان فرق کرتے تھے اور امام کے لیے اس طرح کرنا مکروہ خیال کرتے تھے جبکہ مقتدی کے لیے جواز کے قائل تھے۔ اس کی اسناد قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3054]
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اس مسئلے میں امام اور مقتدی کے درمیان فرق کرتے تھے اور امام کے لیے اس طرح کرنا مکروہ خیال کرتے تھے جبکہ مقتدی کے لیے جواز کے قائل تھے۔ اس کی اسناد قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3054]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ التاريخ الكبير 104»
الحكم على الحديث: صحيح