السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
635. -- باب: من ذكر صلاة وهو في أخرى
-- باب: اس شخص کا بیان جسے ایک نماز کے دوران دوسری نماز یاد آ جائے
حدیث نمبر: Q3192
قَدِ احْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي ذَلِكَ بِعُمُومِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ ثُمَّ اقْضُوا مَا فَاتَكُمْ".
ہمارے بعض اصحاب نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمومی فرمان سے استدلال کیا ہے کہ: ”نماز کا جتنا حصہ پاؤ پڑھ لو، پھر جو تم سے چھوٹ جائے اسے پورا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q3192]
حدیث نمبر: 3192
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ⦗٣١٣⦘ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا فَاتَكُمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ، اطمینان و سکون سے چل کر آؤ، جو پالو وہ پڑھ لو اور جو فوت ہو جائے اس کو پورا کرلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3192]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 866»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3193
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ بَسَّامٍ أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلَمْ يَذْكُرْهَا، إِلَّا وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنَ صَلَاتِهِ فَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ الَّتِي نَسِيَ، ثُمَّ لِيُعِدِ الصَّلَاةَ الَّتِي صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ" تَفَرَّدَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ بِرِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ مَرْفُوعًا، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا وَهَذَا رَوَاهُ غَيْرُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے، پھر اس وقت یاد آئے جب وہ امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو اسے چاہیے کہ نماز جاری رکھے، جب نماز سے فارغ ہو تو جو نماز بھول گیا تھا اسے لوٹا لے، پھر اس کے بعد یہ دوسری نماز جو اس نے امام کے ساتھ پڑھی اس کو بھی لوٹا لے۔“
اس حدیث کو مرفوع بیان کرنے میں ابو ابراہیم ترجمانی منفرد ہیں، اور صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول (موقوف) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3193]
اس حدیث کو مرفوع بیان کرنے میں ابو ابراہیم ترجمانی منفرد ہیں، اور صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول (موقوف) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3193]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن الجوزي في ’’التحقيق‘‘ 1/ 439»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3194
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا.
دوسری سند سے اس جیسی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اس میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان نہیں کیا گیا، اور امام مالک رحمہ اللہ نے بھی اسے اسی طرح موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3194]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 406»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3195
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٣١٤⦘ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرْكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً مِنْ صَلَوَاتِهِ فَلَمْ يَذْكُرْهَا إِلَّا وَهُوَ وَرَاءَ الْإِمَامِ، فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ فَلْيُصَلِّ الصَّلَاةَ الَّتِي نَسِيَهَا، ثُمَّ لِيُصَلِّ بَعْدُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى" قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَقَالَ مَالِكٌ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ مِثْلَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِعَادَةُ الصَّلَاةِ الَّتِي صَلَّاهَا مَعَ الْإِمَامِ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ اسْتِحْبَابٌ لَا إِيجَابٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو آدمی اپنی نماز بھول جائے اور اسے اس وقت یاد آئے جب وہ کوئی دوسری نماز امام کے پیچھے پڑھ رہا ہو تو جب امام سلام پھیر دے تو وہ اس نماز کو پڑھے جو بھول گیا تھا، پھر اس کے بعد دوسری نماز کو لوٹائے۔
(ب) ابن وہب کہتے ہیں کہ امام مالک، لیث بن سعد اور یحییٰ بن عبداللہ بن سالم رحمہم اللہ نے اسی کی مثل بیان کیا ہے۔
(ج) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسری نماز کا اعادہ کرنا جو امام کے ساتھ پڑھی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مستحب ہے نہ کہ واجب۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3195]
(ب) ابن وہب کہتے ہیں کہ امام مالک، لیث بن سعد اور یحییٰ بن عبداللہ بن سالم رحمہم اللہ نے اسی کی مثل بیان کیا ہے۔
(ج) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسری نماز کا اعادہ کرنا جو امام کے ساتھ پڑھی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مستحب ہے نہ کہ واجب۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3195]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3196
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً فَذَكَرَهَا، وَهُوَ فِي صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَلْيَبْدَأْ بِالَّتِي هُوَ فِيهَا، فَإِذَا فَرَغَ صَلَّى الَّتِي نَسِيَ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ رَحِمَهُ اللهُ: عُمَرُ بْنُ أَبِي عُمَرَ مَجْهُولٌ لَا أَعْلَمُ يَرْوِي عَنْهُ غَيْرُ بَقِيَّةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَجُمَّاعُ مَا يُفَارِقُ الْمَرْأَةَ فِيهِ الرَّجُلُ مِنْ أَحْكَامِ الصَّلَاةِ رَاجِعٌ إِلَى السِّتْرِ، وَهُوَ أَنَّهَا مَأْمُورَةٌ بِكُلِّ مَا كَانَ أَسْتَرَ لَهَا وَالْأَبْوَابُ الَّتِي تَلِي هَذِهِ تَكْشِفُ عَنْ مَعْنَاهُ وَتُفَصِّلُهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنا بھول جائے، پھر اس کو فرض نماز ادا کرتے ہوئے وہ نماز یاد آ جائے تو اسی کو جاری رکھے جو پڑھ رہا ہے۔ جب اس سے فارغ ہو، پھر وہ قضا کر لے جو بھول گیا تھا۔“
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن ابی عمر مجہول ہے، میں نہیں جانتا کہ بقیہ کے علاوہ کسی نے اس سے روایت کی ہو۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز کے تمام احکام جو ستر سے متعلقہ ہیں ان میں مرد اور عورت میں فرق ہے؛ اس لیے کہ عورت ہر اس چیز کے کرنے پر مامور ہے جو اس کے لیے زیادہ پردے کا باعث بنے۔
آئندہ ابواب میں ان کی تفصیل اور اس کے معنی کی وضاحت موجود ہے۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3196]
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن ابی عمر مجہول ہے، میں نہیں جانتا کہ بقیہ کے علاوہ کسی نے اس سے روایت کی ہو۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز کے تمام احکام جو ستر سے متعلقہ ہیں ان میں مرد اور عورت میں فرق ہے؛ اس لیے کہ عورت ہر اس چیز کے کرنے پر مامور ہے جو اس کے لیے زیادہ پردے کا باعث بنے۔
آئندہ ابواب میں ان کی تفصیل اور اس کے معنی کی وضاحت موجود ہے۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3196]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن عدي 5/22»
الحكم على الحديث: منكر