السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
641. -- باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3248
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ فَلَقِيَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: أَرِنِي أُقَبِّلُ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ، فَقَالَ بِفُقْمَيْهِ فَوَضَعَ فَاهُ عَلَى سُرَّتِهِ".
عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں: میں حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملے تو انھوں نے فرمایا: ”مجھے دکھاؤ میں آپ کا بوسہ لینا چاہتا ہوں جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ لیتے ہوئے دیکھا“، پھر انھوں نے اپنے دونوں جبڑوں کے ساتھ اپنے منہ کو ان کی ناف پر رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3248]
تخریج الحدیث: «قوي۔ وقد مضي قبله طريق سواه»
الحكم على الحديث: قوي
حدیث نمبر: 3249
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ قَالَ:" رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَتَّزِرُ فَوْقَ السُّرَّةِ" ⦗٣٢٩⦘ وَهَذَا لَا يُخَالِفُ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّرَّةَ لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ؛ لِأَنَّ مَنْ زَعَمَ ذَلِكَ عَقَدَ الْإِزَارَ فَوْقَ السُّرَّةِ لِيَسْتَوْعِبَ جَمِيعَ الْعَوْرَةِ بِالسِّتْرِ. وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) اسلم کے آزاد کردہ غلام ابوالعلاء سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ تہبند ناف کے اوپر باندھتے تھے۔
(ب) یہ حدیث اس کے مخالف نہیں کہ ناف ستر نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے تہبند ناف کے اوپر اس لیے باندھا ہے تاکہ مکمل ستر کو گھیر لے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3249]
(ب) یہ حدیث اس کے مخالف نہیں کہ ناف ستر نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے تہبند ناف کے اوپر اس لیے باندھا ہے تاکہ مکمل ستر کو گھیر لے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3249]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبة 4852»
الحكم على الحديث: ضعيف