🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

644. -- باب: ما يستحب للرجل أن يصلي فيه من الثياب
-- باب: مرد کے لیے کن کپڑوں میں نماز پڑھنا مستحب ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3268
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُزَنِيِّ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ" لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ فَيَشْهَدُهَا مَعَهُ النِّسَاءُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ وَمَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھتے تو آپ کے ساتھ (نماز میں) کئی مسلمان عورتیں شریک ہوتیں، وہ بڑی بڑی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں۔ پھر وہ (نماز کے بعد) اپنے گھروں کو لوٹ جاتیں اور (اندھیرے کی وجہ سے) انہیں کوئی نہ پہچان پاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3268]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطحاوي في شرح المعاني: 1/ 377۔ البخاري بسند آخر 365»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3269
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ أَبُو عَبْدِ اللهِ السِّمْنَانِيُّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، سَمِعَ نَافِعًا، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُما عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَأْتَزِرْ وَلْيَرْتَدِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو تہبند باندھ لیا کرے اور چادر اوڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3269]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3270
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ثنا مُثَنَّى بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3270]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطبراني في الاوسط 9368»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3271
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ - وَلَا يَرَى نَافِعٌ إِلَّا أَنَّهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَلْبَسْ ثَوْبَيْهِ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُزَيَّنَ لَهُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ ثَوْبَانِ فَلْيَأْتَزِرْ إِذَا صَلَّى وَلَا يَشْتَمِلْ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے (اور نافع کا یہی خیال تھا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے مروی ہے) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے لگے تو وہ دو کپڑے پہن لے کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے زینت اختیار کی جائے، لہٰذا اگر کسی کے پاس دو کپڑے نہ ہوں تو وہ تہبند باندھ لیا کرے اور تم میں سے کوئی بھی اپنی نماز میں کپڑے کو نہ لپیٹے یعنی یہودیوں کی طرح چادر لپیٹنا کہ ہاتھ نہ نکل سکیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3271]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن خزيمه: 766»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3272
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ الضُّبَعِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ: أَلَمْ أَكْسِكَ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: فَلَوْ بَعَثْتُكَ كُنْتَ تَذْهَبُ هَكَذَا؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَاللهُ أَحَقُّ أَنْ تُزَيَّنَ لَهُ؟ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ فَلْيَشُدَّهُ عَلَى حَقْوِهِ وَلَا تَشْتَمِلُوا كَاشْتِمَالِ الْيَهُودِ".
نافع بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کیا میں نے تجھے کپڑے نہیں پہنائے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور پہنائے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر تمہیں میں اسی حالت میں کسی طرف بھیجوں تو کیا چلے جاؤ گے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ حق دار ہے کہ اس کے لیے زیب و زینت اختیار کی جائے۔ پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو وہ اپنی کمر یا کوکھ پر باندھ لے اور یہودیوں کی طرح چادر نہ لپیٹے کہ ہاتھ بھی باہر نہ نکل سکیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3272]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3273
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: تَخَلَّفْتُ يَوْمًا فِي عَلَفِ الرِّكَابِ فَدَخَلَ عَلَيَّ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لِي: أَلَمْ تُكْسَ ثَوْبَيْنِ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ بَعَثْتُكَ إِلَى بَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَكُنْتَ تَذْهَبُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَاللهُ أَحَقُّ أَنْ يُتَجَمَّلَ لَهُ أَمِ النَّاسُ؟ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ عُمَرُ:" مَنْ كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَّزِرْ بِهِ وَلَا يَشْتَمِلْ كَاشْتِمَالِ الْيَهُودِ".
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں سواریوں کو چارہ ڈالنے کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے پاس تشریف لائے اور میں ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہا تھا۔ انہوں نے مجھے کہا: کیا تجھے دو کپڑے نہیں پہنائے گئے تھے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں اہل مدینہ میں سے کسی کے پاس بھیجوں تو کیا تم ایک ہی کپڑے میں چلے جاؤ گے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کے لیے خوبصورتی اختیار کی جائے یا لوگ؟ پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”جس کے پاس دو کپڑے ہوں تو وہ ان دونوں میں نماز پڑھے اور جس کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو تو وہ اس کو کمر میں باندھ دے اور یہودیوں کی طرح چادر نہ لپیٹے کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3273]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3274
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ الْحَسَنُ، ثنا يُوسُفُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: احْتَبَسْتُ لَهُ فِي عَلَفِ الرِّكَابِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: قَالَ عُمَرُ، وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا ثَوْبًا وَاحِدًا فَلْيَتَّزِرْ بِهِ وَلَا يَشْتَمِلْ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ" وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ هَكَذَا بِالشَّكِّ.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سواریوں کی خدمت (چارہ وغیرہ ڈالنے) کی وجہ سے رک گیا۔۔۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے، راوی کہتے ہیں: میرا گمان یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک دو کپڑوں میں نماز ادا کرے اور اگر صرف ایک کپڑا میسر ہو تو اسی کو باندھ لے اور یہودیوں کی طرح چادر نہ لپیٹے کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3274]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 358»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3275
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ:" أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ" ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ:" إِذَا وَسَّعَ اللهُ فَأَوْسِعُوا جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ صَلَّى رَجُلٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ فِي تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ فِي تُبَّانٍ وَقَمِيصٍ وَأَحْسِبُهُ قَالَ: فِي تُبَّانٍ وَرِدَاءٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا مرد ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر کسی کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟“ پھر ایک اور شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کھڑا ہوا اور ان سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب اللہ نے تمہیں وسعت دی ہے تو تم بھی وسعت اختیار کرو۔ تمہیں چاہیے کہ اپنے کپڑے اکٹھے کر کے تہبند باندھ لو اس کے ساتھ چادر، قمیص یا جبہ پہن لے یا شلوار پہن لے اور اس کے ساتھ چادر، قمیص یا جبہ پہن لے یا جانگیہ پہن لے اور اس کے ساتھ جبہ یا قمیص پہن لے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے جانگیے کے ساتھ چادر کا بھی ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3275]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 636»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3276
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ الْجَرْمِيُّ، ثنا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، ثنا أَبُو الْمُنِيبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي لِحَافٍ لَا يَتَوَشَّحُ بِهِ وَنَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ".
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک چادر اوڑھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا کہ اس کا دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ دائیں کندھے پر نہ ہو، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کے بغیر صرف پاجامہ میں نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3276]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 351»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں