السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
655. -- باب: كراهية السدل في الصلاة وتغطية الفم
-- باب: نماز میں سدل (کپڑا لٹکانے) اور منہ ڈھانپنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3307
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُتَوَكِّلِ أَبُو الْحَسَنِ الْبَزَّارُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز میں کپڑا لٹکانے اور منہ ڈھانپنے“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3307]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3308
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ قَالَ: أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَرِهَ السَّدْلَ وَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عطاء رحمہ اللہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کپڑا لٹکانے کو ناپسند سمجھتے تھے اور اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3308]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3309
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ هُوَ ابْنُ عَطَاءٍ أنبأ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ وَصَلَهُ الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ وَعِسْلٍ عَنْ عَطَاءٍ وَأَرْسَلَهُ عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَطَاءٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز میں سدل سے منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3309]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3310
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ ⦗٣٤٤⦘ عَبْدِ الْعَزِيزُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عَامِرٌ الْأَحْوَلُ قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ السَّدْلِ، فَكَرِهَهُ، فَقُلْتُ أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ" وَهَذَا الْإِسْنَادُ وَإِنْ كَانَ مُنْقَطِعًا فَفِيهِ قُوَّةٌ لِلْمَوصُولِينَ قَبْلَهُ وَرُوِّينَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ صَلَّى سَادِلًا وَكَأَنَّهُ نَسِيَ الْحَدِيثَ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ إِنَّمَا لَا يَجُوزُ لِلْخُيَلَاءِ وَكَانَ لَا يَفْعَلُهُ خُيَلَاءً، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عامر احول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کپڑا لٹکانے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اسے مکروہ کہا۔ میں نے پوچھا: کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں ثابت ہے۔
نوٹ: نماز میں سر یا کندھوں سے دونوں طرف کپڑا لٹکانا «السَّدْلُ» کہلاتا ہے۔
(ب) ہمیں عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کے حوالے سے روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے کپڑا لٹکا کر نماز ادا کی۔
(ج) شاید وہ یہ حدیث بھول چکے ہوں یا انہوں نے اس پر محمول کیا ہو کہ یہ صرف تکبر کی نیت سے جائز نہیں اور انہوں نے تکبر کی نیت سے نہ کیا ہو۔ واللہ اعلم۔
یہ سند اگرچہ منقطع ہے، لیکن اس میں اپنے سے پہلے والی دونوں متصل روایتوں کے لیے تقویت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3310]
نوٹ: نماز میں سر یا کندھوں سے دونوں طرف کپڑا لٹکانا «السَّدْلُ» کہلاتا ہے۔
(ب) ہمیں عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کے حوالے سے روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے کپڑا لٹکا کر نماز ادا کی۔
(ج) شاید وہ یہ حدیث بھول چکے ہوں یا انہوں نے اس پر محمول کیا ہو کہ یہ صرف تکبر کی نیت سے جائز نہیں اور انہوں نے تکبر کی نیت سے نہ کیا ہو۔ واللہ اعلم۔
یہ سند اگرچہ منقطع ہے، لیکن اس میں اپنے سے پہلے والی دونوں متصل روایتوں کے لیے تقویت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3310]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3311
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّغَانِيُّ بِمَكَّةَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبُوسِيُّ بِصَنْعَاءَ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَرِهَ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُهُ" تَفَرَّدَ بِهِ بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْوَادِعِيِّ أَنَّ" النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ قَدْ سَدَلَ ثَوْبَهُ فِي الصَّلَاةِ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ فَعَطَفَهُ عَلَيْهِ" وَهَذَا مُنْقَطِعٌ.
(ا) ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز میں کپڑا لٹکانے کو مکروہ خیال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(ب) ابو عطیہ وادی سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے، اس نے نماز میں اپنے کپڑے کو دونوں طرف سے لٹکا رکھا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کپڑا پکڑ کر اس کے اوپر لپیٹ دیا۔ یہ روایت منقطع ہے۔
پہلی روایت کو بیان کرنے میں بشر بن رافع منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3311]
(ب) ابو عطیہ وادی سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے، اس نے نماز میں اپنے کپڑے کو دونوں طرف سے لٹکا رکھا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کپڑا پکڑ کر اس کے اوپر لپیٹ دیا۔ یہ روایت منقطع ہے۔
پہلی روایت کو بیان کرنے میں بشر بن رافع منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث: «منكر۔ وقد مضي الكلام عليه في الحديث 3307»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3312
وَقَدْ رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ وَهُوَ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِي الْكُوفِيُّ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي قَدْ سَدَلَ ثَوْبَهُ فَعَطَفَهُ عَلَيْهِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّمَّاكُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّ حَفْصًا ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ وَقَدْ كَتَبْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنِ الْهَيْثَمِ فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَهُوَ أَحْسَنُ مِنْ رِوَايَةِ حَفْصٍ الْقَارِي وَقَدْ كَرِهَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَا.
(ا) عون بن ابی جحیفہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جس نے نماز میں اپنے کپڑے کو لٹکایا ہوا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا اس پر لپیٹ دیا۔
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس کو مکروہ سمجھتے تھے۔
لیکن حفص (بن ابی داود قاری) حدیث میں ضعیف ہیں۔ ہم نے یہ روایت ابراہیم بن طہمان عن ہیثم کے طریق سے بھی لکھی ہے، اگر وہ محفوظ ہو تو حفص قاری کی روایت سے بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3312]
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس کو مکروہ سمجھتے تھے۔
لیکن حفص (بن ابی داود قاری) حدیث میں ضعیف ہیں۔ ہم نے یہ روایت ابراہیم بن طہمان عن ہیثم کے طریق سے بھی لکھی ہے، اگر وہ محفوظ ہو تو حفص قاری کی روایت سے بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ اخرجه القطيعي في ’’الالف دينار 121‘‘»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 3313
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ فَرَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ قَدْ سَدَلُوا ثِيَابَهُمْ، فَقَالَ: كَأَنَّهُمُ الْيَهُودُ خَرَجُوا مِنْ فِهْرِهِمْ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ هُوَ مَوْضِعُ مَدَارِسِهِمُ الَّذِي يَجْتَمِعُونَ فِيهِ قَالَ: وَالسَّدْلُ إِسْبَالُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَضُمَّ جَانِبَيْهِ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنْ ضَمَّهُ فَلَيْسَ بِسَدْلٍ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ أَنَّهُ كَرِهَهُ أَيْضًا مُجَاهِدٌ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ وَيُذْكَرُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ثُمَّ عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا بِهِ بَأْسًا، وَكَأَنَّهُمْ إِنَّمَا ⦗٣٤٥⦘ رَخَّصُوا فِيهِ لِمَنْ يَفْعَلُهُ لِغَيْرِ مَخِيلَةٍ، فَأَمَّا مَنْ يَفْعَلُهُ بَطَرًا فَهُوَ مَنْهِيٌّ عَنْهُ، وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِلَى مَعْنَى هَذَا فِي كِتَابِ الْبُوَيْطِيِّ وَاحْتَجَّ بِمَتْنِ الْحَدِيثِ الَّذِي.
(ا) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ باہر نکلے، انہوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو اپنے کپڑوں کو لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گویا کہ یہ یہودی ہیں جو اپنے «فِهْر» سے نکلے ہیں۔
(ب) ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: «فِهْر» ان کی عبادت گاہ ہوتی ہے یا کوئی ایسی جگہ جہاں یہ جمع ہوتے ہیں اور «سَدْل» کا مطلب ہے کہ آدمی اپنے کپڑے کے دونوں کنارے ملائے بغیر انہیں سامنے کی طرف لٹکا دے۔ اگر ان کناروں کو ملا لے تو «سَدْل» نہ ہوگا۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول دو روایتوں میں سے ایک میں انہوں نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح مجاہد رحمہ اللہ اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بھی اسے مکروہ کہا ہے اور جابر رضی اللہ عنہ، حسن رحمہ اللہ اور ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل کیا جاتا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(د) انہوں نے اس میں جو رخصت دی ہے یہ اس شخص کے لیے ہے جو تکبر کی وجہ سے نہ کرے، لیکن جو تکبر کی وجہ سے کرے اس سے روکا گیا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے بویطی کی کتاب میں اسی مفہوم کی طرف اشارہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3313]
(ب) ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: «فِهْر» ان کی عبادت گاہ ہوتی ہے یا کوئی ایسی جگہ جہاں یہ جمع ہوتے ہیں اور «سَدْل» کا مطلب ہے کہ آدمی اپنے کپڑے کے دونوں کنارے ملائے بغیر انہیں سامنے کی طرف لٹکا دے۔ اگر ان کناروں کو ملا لے تو «سَدْل» نہ ہوگا۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول دو روایتوں میں سے ایک میں انہوں نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح مجاہد رحمہ اللہ اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بھی اسے مکروہ کہا ہے اور جابر رضی اللہ عنہ، حسن رحمہ اللہ اور ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل کیا جاتا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(د) انہوں نے اس میں جو رخصت دی ہے یہ اس شخص کے لیے ہے جو تکبر کی وجہ سے نہ کرے، لیکن جو تکبر کی وجہ سے کرے اس سے روکا گیا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے بویطی کی کتاب میں اسی مفہوم کی طرف اشارہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 1423»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3314
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَسْتَ أَوْ إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُهُ خُيَلَاءَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
(ا) سالم بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تکبر سے اپنے کپڑے کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکائے گا اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔“
(ب) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے تہبند کا ایک کنارہ لٹک جاتا ہے مگر میں پھر بھی اسے اوپر کرتا رہتا ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نہیں ہے“ یا فرمایا: ”تو ان میں سے نہیں ہے جو تکبر کی وجہ سے اس طرح کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3314]
(ب) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے تہبند کا ایک کنارہ لٹک جاتا ہے مگر میں پھر بھی اسے اوپر کرتا رہتا ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نہیں ہے“ یا فرمایا: ”تو ان میں سے نہیں ہے جو تکبر کی وجہ سے اس طرح کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3314]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 3465»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3315
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرٌو، عَنْ طَاوُسٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ذَكَرَ فِي الْإِزَارِ مَا ذَكَرَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِزَارِي يَسْقُطُ عَنْ أَحَدِ شِقِّيَّ قَالَ:" إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ ثُمَّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَالشَّعْبِيِّ وَعِكْرِمَةَ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُمْ كَرِهُوا التَّلَثُّمَ فِي الصَّلَاةِ وَرِوَايَةُ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ تُصَرِّحُ بِالنَّهْيِ عَنْهُ.
(ا) سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبند کے بارے میں ذکر فرمایا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میرا تہبند ایک طرف سے گر جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان میں سے نہیں ہے۔“
(ب) اور ہمیں ابن عمر رضی اللہ عنہما، سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ، شعبی رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے نقل کیا گیا ہے کہ یہ تمام حضرات نماز میں چہرہ ڈھانپنے کو مکروہ خیال کرتے تھے اور حسن بن ذکوان رحمہ اللہ کی روایت میں اس سے ممانعت کی تصریح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3315]
(ب) اور ہمیں ابن عمر رضی اللہ عنہما، سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ، شعبی رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے نقل کیا گیا ہے کہ یہ تمام حضرات نماز میں چہرہ ڈھانپنے کو مکروہ خیال کرتے تھے اور حسن بن ذکوان رحمہ اللہ کی روایت میں اس سے ممانعت کی تصریح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3315]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح