السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
674. -- باب: من رأى أن يرد بعد الفراغ من الصلاة
-- باب: اس شخص کی رائے کا بیان جس نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد جواب دینا مناسب سمجھا
حدیث نمبر: 3410
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ وَنَأْمُرُ بِحَاجَتِنَا فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ:" إِنَّ اللهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّ اللهَ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ" فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نماز میں سلام اور ضرورت کی بات کر لیا کرتے تھے۔ میں (حبشہ سے واپسی پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے، نیا حکم نازل فرما دیتا ہے، اب اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3410]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداؤد 928»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره