السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
693. -- باب: الدليل على أن مرور الحمار بين يديه لا يفسد الصلاة
-- باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3500
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ لَنَا، فَمَرَرْنَا بِبَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ، وَلَمْ يَقُلْ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ہم اپنی گدھی پر سوار ہو کر آئے تھے۔ ہم صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر گئے، پھر اس سے اتر کر اس کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ بھی نہیں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3500]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 504۔ ليس عند مسلم قوله انا وفضل بن عباس»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلَتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ" ⦗٣٩٣⦘ وَفِي حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ:" فَأَرْسَلْتُ حِمَارِي تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ الصَّفَّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا اور ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر کر گدھی سے اترا اور گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں جا کر مل گیا۔ مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ میں نے اپنے گدھے کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوا اور مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3501]
امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ میں نے اپنے گدھے کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوا اور مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3501]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 76»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3502
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، فَذَكَرَهُ مِثْلَ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَ يَدَيِ الصَّفِّ، وَقَالَ: فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَقَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَقَالَ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: أَوْ قَالَ: يَوْمَ الْفَتْحِ وَحَجَّةُ الْوَدَاعِ أَصَحُّ، وُرُوِّينَا فِي رِوَايَةِ مَالِكٍ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ مِنَ الْمُوَطَّأِ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ وَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى خَطَأِ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ صَلَّى إِلَى سُتْرَةٍ وَإِنَّ سُتْرَةَ الْإِمَامِ سُتْرَةُ الْمَأْمُومِ؛ فَلِذَلِكَ لَمْ يَقْطَعْ مُرُورُ الْحِمَارِ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ صَلَاتَهُمْ فَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
(ا) ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت منقول ہے مگر اس میں «بَيْنَ يَدَيِ الصَّفِّ» ہے، ”بعض“ کا لفظ نہیں ہے اور فرمایا: ”مجھ پر کسی نے اعتراض نہ کیا۔“
(ب) یونس بن یزید نے اس حدیث کو ابن شہاب رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ منیٰ میں حجۃ الوداع کے موقع پر ہوا۔
(ج) معمر، ابن شہاب رحمہ اللہ سے اس کو روایت کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن اور حجۃ الوداع والا قول زیادہ صحیح ہے۔
(د) مؤطا کی کتاب المناسک سے ہم امام مالک رحمہ اللہ کی روایت بیان کر چکے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث میں فرمایا: «إِلٰى غَيْرِ جِدَارٍ» ”دیوار کے علاوہ کی طرف۔“
(ہ) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سترے کے بغیر۔“ واللہ اعلم۔
(و) یہ بات اس آدمی کی خطا پر دلالت کرتی ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترے کی جانب نماز پڑھی اور امام کا سترہ مقتدی کا سترہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے گدھے کے گزرنے سے ان کی نماز نہیں ٹوٹی اور امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترے کے بغیر نماز پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3502]
(ب) یونس بن یزید نے اس حدیث کو ابن شہاب رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ منیٰ میں حجۃ الوداع کے موقع پر ہوا۔
(ج) معمر، ابن شہاب رحمہ اللہ سے اس کو روایت کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن اور حجۃ الوداع والا قول زیادہ صحیح ہے۔
(د) مؤطا کی کتاب المناسک سے ہم امام مالک رحمہ اللہ کی روایت بیان کر چکے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث میں فرمایا: «إِلٰى غَيْرِ جِدَارٍ» ”دیوار کے علاوہ کی طرف۔“
(ہ) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سترے کے بغیر۔“ واللہ اعلم۔
(و) یہ بات اس آدمی کی خطا پر دلالت کرتی ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترے کی جانب نماز پڑھی اور امام کا سترہ مقتدی کا سترہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے گدھے کے گزرنے سے ان کی نماز نہیں ٹوٹی اور امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترے کے بغیر نماز پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3502]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3503
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا عِنْدَهُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: الْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، أَوْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مُرْتَدِفَيْنِ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي خَلَاءٍ فَنَزَلْنَا عَنِ الْحِمَارِ وَتَرَكْنَاهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَمَا بَالِاهُ قَالَ: وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ تَشْتَدَّانِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَاقْتَتَلَتَا فَأَخَذَهُمَا فَنَزَعَ إِحْدَاهُمَا مِنَ الْأُخْرَى فَمَا بَالِاهُ.
ابو صہبا رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ کون سی چیز نماز توڑتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: کتا، عورت اور گدھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں اور بنو ہاشم یا بنو عبدالمطلب کا ایک لڑکا دونوں ایک گدھے پر بیٹھے ہوئے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ ہم گدھے سے اترے اور اس کو ان کے سامنے چھوڑ دیا، اس کا کوئی خیال نہ رکھا۔ بنو ہاشم کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں اور لڑ پڑیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ کر ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا اور اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3503]
تخریج الحدیث: «جيد۔ اخرجه ابن خزيمة 835»
الحكم على الحديث: جيد
حدیث نمبر: 3504
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ صُهَيْبٍ، قُلْتُ: مَنْ صُهَيْبٌ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ عَلَى حِمَارٍ هُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَنْصَرِفْ لِذَلِكَ وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا، يَعْنِي بِذَلِكَ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ يَنْصَرِفْ لِذَلِكَ".
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اور بنو ہاشم کا ایک بچہ دونوں گدھے پر سوار ہو کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے اس وجہ سے نماز نہیں توڑی۔ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آئیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کو پکڑ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان صلح کروا دی اور انہیں علیحدہ کر دیا، لیکن اس وجہ سے نماز نہیں توڑی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3504]
تخریج الحدیث: «قوي۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: قوي
حدیث نمبر: 3505
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ⦗٣٩٤⦘ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَأَرْسَلْنَا الْحِمَارَ وَدَخَلْنَا فِي الصَّلَاةِ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَسْتَبِقَانِ فَفَرَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَقْطَعْ عَلَيْهِ شَيْئًا وَسَقَطَ جَدْيٌ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ كُوَّةٍ فَلَمْ يَقْطَعْ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں اور بنو عبدالمطلب کا ایک لڑکا گدھے پر سوار ہو کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے۔ ہم نے گدھے کو چھوڑا اور نماز میں شامل ہو گئے۔ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان صلح کروا دی، لیکن اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز نہ توڑی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے مینڈھے کا بچہ گزرنے لگا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز نہ توڑی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3505]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 1/ 308»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3506
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قِرَاءَةً ثنا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الصَّيْدَلَانِيُّ لَفْظًا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، عَنْ بَكْرَ بْنَ مُضَرَ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَرْمَلَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَمَرَّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حِمَارٌ، فَقَالَ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ: سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ الْمُسَبِّحُ آنِفًا، سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ؟" قَالَ: فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي سَمِعْتُ أَنَّ الْحِمَارَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ قَالَ:" لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ کے آگے سے ایک گدھا گزرا تو عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے، اللہ پاک ہے“! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”ابھی ابھی سبحان اللہ کس نے پڑھا؟“ عیاش رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اے اللہ کے رسول! میں نے سنا تھا کہ گدھا (آگے سے گزر کر) نماز توڑ دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی“ یعنی کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3506]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الدار قطني 1/ 367»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 3507
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ يَقُولُ: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ" لَا يَقْطَعُ صَلَاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ".
سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عیاش بن ربیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کتا اور گدھا نماز توڑ دیتے ہیں، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مسلمان آدمی کی نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3507]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 2885»
الحكم على الحديث: صحيح