السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
695. -- باب: من كره الصلاة إلى نائم أو متحدث
-- باب: اس قول کا بیان جس نے سوئے ہوئے یا باتیں کرنے والے شخص کی طرف نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 3515
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُصَلُّوا خَلْفَ النَّائِمِ وَلَا الْمُتَحَدِّثِ" وَهَذَا أَحْسَنُ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْمِقْدَامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سو رہا ہو یا باتیں کر رہا ہو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
یہ اس باب میں مروی سب سے بہتر روایت ہے اور یہ مرسل ہے، اور اسے ہشام بن زیاد ابو المقدام نے محمد بن کعب سے بھی روایت کیا ہے اور وہ متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3515]
یہ اس باب میں مروی سب سے بہتر روایت ہے اور یہ مرسل ہے، اور اسے ہشام بن زیاد ابو المقدام نے محمد بن کعب سے بھی روایت کیا ہے اور وہ متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3515]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداود: 694۔ يه مرسل هي۔»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 3516
وَأَصَحُّ أَثَرٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ مَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْدِيكَرِبَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ: لَا تَصُفُّوا بَيْنَ الْأَسَاطِينِ وَلَا تُصَلِّ وَبَيْنَ يَدَيْكَ قَوْمٌ يَمْتَرُونَ أَوْ يَلْعَبُونَ وَهَذَا الْمَوْقُوفُ فِي قَوْمٍ يَمْتَرُونَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُلْهِيهِ سَمَاعُ أَصْوَاتِهِمْ وَكَلَامِهِمْ عَنِ الْخُشُوعِ فِي الصَّلَاةِ فَيَتَّقِي ذَلِكَ مَا اسْتَطَاعَ، فَأَمَّا الصَّلَاةُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ نَائِمٌ فَلَا يُحْتَشَمُ مِنْهُ فَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهَا وَذَلِكَ فِيمَا.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ا) ”ستونوں کے درمیان صفیں نہ بناؤ اور نہ نماز پڑھو اگر تمہارے سامنے کھینچا تانی کرنے والے اور کھیلنے والے لوگ ہوں۔“
(ب) یہ موقوف روایت ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کے سامنے لوگ کھینچا تانی کر رہے ہوں اور ان کی باتوں کی آواز اور گفتگو سے نماز کا خشوع ختم ہو جاتا ہو، تو جہاں تک ممکن ہو ان سے بچے، لیکن اگر اس کے سامنے کوئی سو رہا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3516]
(ب) یہ موقوف روایت ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کے سامنے لوگ کھینچا تانی کر رہے ہوں اور ان کی باتوں کی آواز اور گفتگو سے نماز کا خشوع ختم ہو جاتا ہو، تو جہاں تک ممکن ہو ان سے بچے، لیکن اگر اس کے سامنے کوئی سو رہا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3516]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطبراني في الكبير 9295»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3517
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ (ح) قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ لَفْظُ حَدِيثِ وَكِيعٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز (تہجد) پڑھا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے، میں بھی وتر پڑھ لیتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3517]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم تخريجه في الحديث رقم 3492»
الحكم على الحديث: صحيح