🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

736. -- باب: الوقوف عند آية الرحمة وآية العذاب وآية التسبيح
-- باب: آیتِ رحمت، آیتِ عذاب اور آیتِ تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3686
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ، ثنا جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمُ" فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" ثُمَّ قَامَ قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ:" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى" فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ شروع کی تو میں نے (دل میں) کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ایک رکعت میں پڑھیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے۔ میں نے کہا: اس میں رکوع کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النساء شروع کردی اور پوری پڑھ ڈالی، پھر سورۃ آل عمران شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے۔ جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں تسبیح ہو تو ”سبحان اللہ“ کہتے اور جب کسی سوال والی آیت کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ والی آیت آتی تو پناہ مانگتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا رب عظمت والا“ پڑھتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع بھی آپ کے قیام کے برابر تھا۔ پھر «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی تعریف سن لی جس نے اس کی حمد کی“ پڑھا، پھر جتنی دیر رکوع کیا تھا اس کے قریب قریب قومہ کیا، پھر سجدہ کیا تو یہ پڑھتے رہے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے بھی تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3686]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 772»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3687
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: قُلْتُ لِسُلَيْمَانَ يَعْنِي الْأَعْمَشَ: أَدْعُو فِي الصَّلَاةِ إِذَا مَرَرْتُ بِآيَةِ تَخَوُّفٍ، فَحَدَّثَنِي عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ مُسْتَوْرِدٍ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ:" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ" وَفِي سُجُودِهِ:" سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى" وَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ وَلَا بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَتَعَوَّذَ".
حضرت شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سلیمان اعمش رحمہ اللہ سے پوچھا: جب میں نماز کے دوران ڈرانے والی آیت پڑھوں تو کیا دعا کر سکتا ہوں؟ انہوں نے مجھے اس سند سے حدیث بیان کی۔۔۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» اور سجدوں میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» پڑھتے تھے اور جب کسی رحمت والی آیت پر پہنچتے تو وہاں رک کر رحمت کا سوال کرتے اور جب کسی عذاب والی آیت پر پہنچتے تو وہاں ٹھہر کر عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3687]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله وهذا الفظ ابي داود 871»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3688
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: إِنَّ رِجَالًا يَقْرَأُ أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَتْ: أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا كُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ التَّامِّ فَيَقْرَأُ بِالْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءِ فَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ دَعَا وَرَغِبَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ دَعَا وَاسْتَعَاذَ".
مسلم بن مخراق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: کچھ لوگ ایک رات میں دو دو، تین تین مرتبہ مکمل قرآن پڑھتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ان کا پڑھنا اور نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پوری رات قیام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرہ، آل عمران اور نساء پڑھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی خوشخبری والی آیت سے گزرتے تو دعا اور رغبت کرتے اور جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں ڈرانا ہوتا تو بھی دعا کرتے اور پناہ مانگتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3688]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابو يعلي 4842»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3689
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَامَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ:" سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ" ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِآلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً سُورَةً.
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام میں سورۃ البقرہ پڑھی، جب رحمت والی آیت سے گزرتے تو رک کر اللہ سے رحمت کا سوال کرتے اور عذاب والی آیت سے گزرتے تو رک کر اللہ سے پناہ مانگتے۔ پھر قیام کے برابر رکوع کرتے اور رکوع میں «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ”پاک ہے، بہت غلبے، بڑی بادشاہت، بڑائی اور عظمت والا ہے۔“ پڑھتے، پھر اپنے قیام کے برابر سجدہ کرتے اور اپنے سجدوں میں بھی اسی طرح دعا پڑھتے، پھر کھڑے ہوئے اور (دوسری رکعت میں) سورہ آل عمران کی قراءت کی پھر ایک ایک سورت پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3689]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 873»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3690
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ".
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز ادا کر رہے تھے، میں نے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ» اے اللہ! میں آگ کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ آگ والوں کے لیے ہلاکت و بربادی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3690]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 881»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3691
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَرَأَ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: ١] قَالَ:" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: خُولِفَ وَكِيعٌ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، رَوَاهُ أَبُو وَكِيعٍ وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] پڑھتے تو ” «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰی» ”پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے۔“”کہتے۔
(ب) ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اس حدیث میں وکیع رحمہ اللہ کی مخالفت کی گئی ہے اور اس حدیث کو ابووکیع رحمہ اللہ اور شعبہ رحمہ اللہ نے ابواسحاق رحمہ اللہ کے واسطے سے سعید بن جبیر رحمہ اللہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی سند سے موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3691]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 883»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3692
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَوْقَ بَيْتِهِ فَكَانَ إِذَا قَرَأَ {أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى} [القيامة: ٤٠] قَالَ: سُبْحَانَكَ فَبَلَى" فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت موسیٰ بن ابی عائشہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنے گھر کی چھت پر نماز پڑھ رہا تھا۔ جب اس نے ﴿أَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلٰى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتٰى﴾ [سورة القيامة: 40] ”کیا اللہ تعالیٰ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے۔“ پڑھا تو اس نے کہا: «سُبْحَانَكَ فَبَلَىٰ» ”پاک ہے تو اور قادر ہے۔“ لوگوں نے اس سے اس کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بتایا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3692]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 884»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3693
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ، فَانْتَهَى إِلَى آخِرِهَا {أَلَيْسَ اللهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ} [التين: ٨] فَلْيَقُلْ: وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، وَمَنْ قَرَأَ {لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ} [القيامة: ١] فَانْتَهَى إِلَى {أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى} [القيامة: ٤٠] فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَمَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلَاتِ فَبَلَغَ {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ} [المرسلات: ٥٠] فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللهِ" قَالَ إِسْمَاعِيلُ: ذَهَبْتُ أُعِيدُ عَلَى الرَّجُلِ الْأَعْرَابِيِّ وَأَنْظُرُ لَعَلَّهُ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي أَتَظُنُّ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا حَجَّةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ﴾ [سورة التين: 1] پڑھے اور اس کی آخری آیت ﴿أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ﴾ [سورة التين: 8] ”کیا اللہ تعالیٰ سب فیصلہ کرنے والوں سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والا نہیں ہے؟“ پر پہنچے تو وہ «وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» ”اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں“ کہے، اور جو شخص ﴿لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة القيامة: 1] پڑھے اور اس کی آیت ﴿أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ﴾ [سورة القيامة: 40] ”کیا اللہ تعالیٰ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے؟“ پر پہنچے تو وہ «بَلَىٰ» ”ہاں“ کہے، اور جو شخص ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ﴾ [سورة المرسلات: 1] پڑھے اور وہ ﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ [سورة المرسلات: 50] ”اس کے بعد اور کون سی بات پر وہ ایمان لائیں گے؟“ پر پہنچے تو وہ «آمَنَّا بِاللَّهِ» ”ہم اللہ پر ایمان لائے“ کہے۔“
(ب) حضرت اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں: ”میں اس دیہاتی شخص کے پاس گیا تاکہ اس سے دوبارہ وہ حدیث سن سکوں کہیں وہ غلطی نہ کر دے۔ اس دیہاتی نے کہا: بھتیجے! آپ کا کیا خیال ہے مجھے وہ حدیث یاد نہیں؟ میں نے ساٹھ حج کیے ہیں، ان میں سے ایک حج بھی ایسا نہیں کہ جس اونٹ پر میں نے وہ حج کیا ہو اور میں اس اونٹ کو پہچان نہ سکوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3693]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 887»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3694
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقْرَأُ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: ١] فَقَالَ:" سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى".
سیدنا عبد خیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] پڑھتے سنا تو وہ یہ پڑھ کر کہتے تھے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب جو بلند تر ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3694]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق4049»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ بِشْرِ بْنِ جَابَانَ الصَّغَانِيِّ، عَنْ حُجْرِ بْنِ ⦗٤٤١⦘ قَيْسٍ الْمُدَرِيِّ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ يَقْرَأُ، فَمَرَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ} [الواقعة: ٥٩] قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} [الواقعة: ٦٣] قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ} [الواقعة: ٦٨] قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ} قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا".
حضرت حجر بن قیس مدری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں رات گزاری تو میں نے انھیں تہجد میں قراءت کرتے سنا، جب وہ اس آیت پر پہنچے ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ * أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ﴾ [سورة الواقعة: 58-59] ”اچھا پھر یہ تو بتلاؤ کہ جو پانی تم ٹپکاتے ہو، کیا اس کا انسان تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟“ تو فرمایا «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”بلکہ اے اللہ! تو ہی خالق ہے“۔ تین مرتبہ کہا۔ پھر پڑھا: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ * أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ﴾ [سورة الواقعة: 63-64] پھر انھوں نے تین بار کہا «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”اے میرے رب! بلکہ تو ہی ہے“، پھر پڑھا: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ * أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ﴾ [سورة الواقعة: 68-69] ”اچھا یہ بتاؤ جس پانی کو تم پیتے ہو اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟“
انہوں نے تین بار کہا «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”اے میرے پروردگار! تو ہی تو ہے“۔ پھر پڑھتے: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ * أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ﴾ [سورة الواقعة: 71-72] ”اچھا ذرا یہ تو بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو، اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں“۔ انھوں نے تین بار کہا: «بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ» ”اللہ تو ہی یہ سب کچھ کرنے والا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3695]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الحاكم 2/518»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں