🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

746. -- باب: سجدة ص
-- باب: سورہ ص کے سجدے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3749
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ الْبَخْتَرِيِّ الْحِنَّائِيُّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ أَسَجَدُ فِي ص؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَقَالَ لِي: اسْجُدْ فِيهَا فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {" أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ"} [الأنعام: ٩٠] كَذَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، وَيُذْكَرُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" فِي ص سَجْدَةٌ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے فرمایا: ”کیا تم سورہ صٓ میں سجدہ کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”اس میں سجدہ کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] ”یہ اللہ کے ہدایت یافتہ لوگ ہیں۔ آپ ان کی ہدایت کی اقتدا کرو۔“”اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا۔ ایک دوسری روایت میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ سورہ صٓ میں سجدہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3749]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الطحاوي في مشكل الآثار 7/ 237»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3750
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي أَقْرَأُ سُورَةَ ص، فَلَمَّا أَتَيْتُ عَلَى السَّجْدَةِ سَجَدَ كُلُّ شَيْءٍ رَأَيْتُ، الدَّوَاةُ وَالْقَلَمُ وَاللَّوْحُ، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَمَرَ بِالسُّجُودِ فِيهَا".
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] پڑھ رہا ہوں۔ جب میں سجدہ والی آیت پر پہنچا تو ہر چیز سجدے میں گر گئی، حتیٰ کہ میں نے دوات، قلم اور لوح کو بھی سجدہ ریز دیکھا۔ صبح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3750]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وله شاهد، اخرجه محمد بن الحسن في الحجة 1/ 112»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3751
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ⦗٤٥٤⦘ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ: يَا حَسَنُ، حَدَّثَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ، فَقَرَأْتُ ص فَلَمَّا أَتَيْتُ عَلَى السَّجْدَةِ سَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ بِسُجُودِي، فَسَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ: اللهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ ذِكْرًا، وَاجْعَلْ لِي بِهَا عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَأَعْظِمْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا" قَالَ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ ص فَلَمَّا أَتَى عَلَى السَّجْدَةِ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ مَا أَخْبَرَ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ" بِسُجُودِي.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! گزشتہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا تو دورانِ نماز میں نے ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 24] کی قراءت کی، جب میں سجدہ والی آیت پر پہنچا تو میں نے سجدہ کیا اور درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، میں نے اس درخت کو سجدے میں یہ دعا پڑھتے سنا: «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ ذِكْرًا، وَاجْعَلْ لِي بِهَا عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَأَعْظِمْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا» ”اے اللہ! اس سجدہ کے بدلے میرے لیے اپنے ہاں ذکر لکھ دے اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے اور اس کا میرے لیے اپنے پاس سے بہت بڑا اجر بنا کر رکھ۔““ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 24] پڑھی جب آیتِ سجدہ پر پہنچے تو سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے سجدے میں وہی دعا کرتے سنا جو اس شخص نے درخت کے بارے میں بتایا۔
یہ ابوبکر (بن اسحاق) کی حدیث کے الفاظ ہیں، مگر انہوں نے «بِسُجُودِي» (میرے سجدے کے ساتھ) کا لفظ نہیں کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3751]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3752
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الدُّعَاءِ:" اللهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ" وَلَمْ يَقُلْ ص إِنَّمَا قَالَ: فَرَأَيْتُ كَأَنِّي قَرَأْتُ سَجْدَةً فَسَجَدَتُ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ: كَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ يُصَلِّي بِنَا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَكَانَ يَقْرَأُ السَّجْدَةَ فَيَسْجُدُ فَيُطِيلُ السُّجُودَ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَيَقُولُ: قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ بِهَذَا.
(ا) ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں: «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي عِنْدَكَ بِهَا أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ» ”اے اللہ! اس سجدے کے بدلے میں میرے لیے اپنے ہاں اجر لکھ دے اور اس کے ذریعے مجھ سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے اور اسے مجھ سے اس طرح قبول فرما جس طرح تو نے اپنے بندے حضرت داؤد (علیہ السلام) سے قبول کیا تھا۔“ انھوں نے سورہ صٓ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف اتنا کہا: میں نے دیکھا کہ میں نے سجدے والی آیت پڑھی تو میں نے سجدہ کیا۔
(ب) اس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت محمد بن یزید بن خنیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ نے ہمیں رمضان المبارک کے مہینے میں مسجد حرام میں نماز پڑھائی۔ وہ سجدے والی آیت پڑھتے تو سجدہ کرتے تھے اور سجدے کو لمبا کرتے تھے۔ انھیں اس بارے میں کہا گیا تو انھوں نے فرمایا: مجھے حضرت ابن جریج رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے تیرے دادا حضرت عبیداللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ نے اس بارے میں خبر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3752]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں