السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
752. -- باب: من قال لا يسجد المستمع إذا لم يسجد القارئ
-- باب: اس قول کا بیان کہ جب قاری سجدہ نہ کرے تو سننے والا بھی سجدہ نہ کرے
حدیث نمبر: 3769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ:" قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا تَقَدَّمَ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ﴿سورة النجم﴾ کی تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3769]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 3753»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3770
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا قَرَأَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فِيهَا سَجْدَةٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ الرَّجُلُ وَسَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ، ثُمَّ قَرَأَ آخَرُ آيَةً فِيهَا سَجْدَةٌ، وَهُوَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَظَرَ الرَّجُلُ أَنْ يَسْجُدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَسْجُدْ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَرَأْتُ السَّجْدَةَ فَلَمْ تَسْجُدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُنْتَ إِمَامًا فَلَوْ سَجَدْتَ سَجَدْتُ مَعَكَ" وَقَدْ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَالَ: إِنِّي لَأَحْسَبُهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ؛ لِأَنَّهُ يُحْكَى أَنَّهُ قَرَأَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَسْجُدْ، وَإِنَّمَا رَوَى الْحَدِيثَيْنِ مَعًا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمًهُ اللهُ: فهَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مُحْتَمَلٌ وَقَدْ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْصُولًا، وَإِسْحَاقُ ضَعِيفٌ وَرُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ أَيْضًا ⦗٤٦٠⦘ ضَعِيفٌ وَالْمَحْفُوظُ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلٌ، وَحَدِيثُهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَوْصُولٌ مُخْتَصَرٌ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
(ا) حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص نے آیتِ سجدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تلاوت کی اور سجدہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر کسی دوسرے شخص نے آیتِ سجدہ تلاوت کی اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے کا انتظار کرتا رہا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آیتِ سجدہ تلاوت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو امام تھا اگر تو سجدہ کرتا تو میں بھی تیرے ساتھ سجدہ کرلیتا۔“
(ب) حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت نقل کی اور فرمایا: میرا خیال یہ ہے کہ وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ وہی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا اور اس لیے بھی کہ دونوں حدیثوں کو روایت کرنے والے حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ ہی ہیں۔
(ج) حضرت امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جو بات ذکر کی ہے یہ بھی درست ہو سکتی ہے۔
اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے اسے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موصولاً روایت کیا ہے، اور اسحاق ضعیف ہے۔ نیز یہ اوزاعی سے، انہوں نے قرہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔ عطاء بن یسار کی حدیث میں محفوظ یہ ہے کہ وہ مرسل ہے اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ان کی حدیث موصول اور مختصر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3770]
(ب) حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت نقل کی اور فرمایا: میرا خیال یہ ہے کہ وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ وہی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا اور اس لیے بھی کہ دونوں حدیثوں کو روایت کرنے والے حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ ہی ہیں۔
(ج) حضرت امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جو بات ذکر کی ہے یہ بھی درست ہو سکتی ہے۔
اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے اسے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موصولاً روایت کیا ہے، اور اسحاق ضعیف ہے۔ نیز یہ اوزاعی سے، انہوں نے قرہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔ عطاء بن یسار کی حدیث میں محفوظ یہ ہے کہ وہ مرسل ہے اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ان کی حدیث موصول اور مختصر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3770]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انه من بلاغات او مراسيل عطاء»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3771
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ: قَرَأْتُ السَّجْدَةَ عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ:" أَنْتَ إِمَامُنَا فَاسْجُدْ نَسْجُدْ مَعَكَ".
حضرت سلیمان بن حنظلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیتِ سجدہ تلاوت کی تو انہوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: تم ہمارے امام ہو تم سجدہ کرو تاکہ ہم بھی تمہارے ساتھ سجدہ کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3771]