السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
759. -- باب: الصلاة في الكعبة
-- باب: کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3790
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ تَفَرَّدَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَفِيهِ إِرْسَالٌ بَيْنَ عُرْوَةَ وَعُثْمَانَ.
حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی۔
اس روایت کو بیان کرنے میں حماد بن سلمہ منفرد ہیں اور اس میں عروہ اور عثمان کے درمیان ارسال (انقطاع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3790]
اس روایت کو بیان کرنے میں حماد بن سلمہ منفرد ہیں اور اس میں عروہ اور عثمان کے درمیان ارسال (انقطاع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3790]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ للانقطاع بين عروة وعثمان»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3791
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، ثُمَّ خَرَجَ وَبِلَالٌ خَلْفَهُ، فَقُلْتُ لِبِلَالٍ: هَلْ صَلَّى؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَخَلَ فَسَأَلْتُ بِلَالًا هَلْ صَلَّى؟ قَالَ: نَعَمْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ اسْتَقْبَلَ الْجَذَعَةَ وَجَعَلَ السَّارِيَةَ الثَّانِيَةَ عَنْ يَمِينِهِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے پھر باہر نکل آئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر جب اگلے دن داخل ہوئے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھی ہیں، آپ کھجور کے تنے والے ستون کی طرف متوجہ ہوئے اور دوسرے ستون کو اپنی دائیں طرف رکھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3791]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدار قطني في سننه 2/ 52/1»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3792
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْغَفَّارِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ ⦗٤٦٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَصَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بَيْنَ الْبَابِ وَالْحَجَرِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ، ثُمَّ دَخَلَ مَرَّةً أُخْرَى فَقَامَ فِيهِ يَدْعُو، ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ" وَهَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ إِنْ صَحَّتَا فَفِيهِمَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَهُ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّى مَرَّةً، وَتَرَكَ مَرَّةً إِلَّا أَنَّ فِي ثُبُوتِ الْحَدِيثَيْنِ نَظَرًا وَمَا ثَبَتَ عَنْ بِلَالٍ وَهُوَ مُثْبَتٌ أَوْلَى مِمَّا ثَبَتَ عَنْ أُسَامَةَ وَهُوَ نَافٍ وَمَعَ بِلَالٍ غَيْرُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت نماز ادا کی، پھر نکل گئے۔ پھر دروازے اور حجرِ اسود کے درمیان دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: ”یہی قبلہ ہے۔“ پھر دوسری مرتبہ داخل ہوئے تو کھڑے ہو کر دعا کرتے رہے، پھر نکل گئے اور نماز نہیں پڑھی۔
یہ دونوں روایتیں اگر صحیح ثابت ہو جائیں تو ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیت اللہ میں دو بار داخل ہونے کی دلیل ہے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو اور ایک مرتبہ نہ پڑھی ہو۔ مگر ان دونوں حدیثوں کے ثبوت میں نظر ہے اور جو بات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، جو (نماز کا) اثبات کرنے والے ہیں، وہ اس سے اولیٰ ہے جو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، جو نفی کرنے والے ہیں، اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسرے (راوی) بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3792]
یہ دونوں روایتیں اگر صحیح ثابت ہو جائیں تو ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیت اللہ میں دو بار داخل ہونے کی دلیل ہے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو اور ایک مرتبہ نہ پڑھی ہو۔ مگر ان دونوں حدیثوں کے ثبوت میں نظر ہے اور جو بات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، جو (نماز کا) اثبات کرنے والے ہیں، وہ اس سے اولیٰ ہے جو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، جو نفی کرنے والے ہیں، اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسرے (راوی) بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3792]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ اخرجه الدار قطني في سننه 2/ 52/3»
الحكم على الحديث: ضعيف جدا
حدیث نمبر: 3793
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ بِشْرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَيِّبَةً وَطَهُورًا وَمَسْجِدًا وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدِيَّ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ" وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ هُشَيْمٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ پہلے نبی کسی ایک قوم کی طرف خاص طور پر بھیجے جاتے تھے اور مجھے سرخ و سیاہ سب لوگوں کی طرف بھیجا گیا، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئی تھیں، میرے لیے زمین کو نماز کے لیے پاک جگہ اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا، میری امت کے جس شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے وہ وہیں نماز پڑھ لے اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی کہ ایک ماہ کی مسافت سے دشمنوں پر میرا رعب پڑتا ہے اور مجھے شفاعت کاملہ دی گئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3793]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 335»
الحكم على الحديث: صحيح