السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
765. -- باب: سجود السهو في الزيادة في الصلاة بعد التسليم
-- باب: نماز میں زیادتی کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3816
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ ⦗٤٧٤⦘ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ" فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ السَّلَامِ وَهُوَ جَالِسٌ" لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّافِعِيُّ قَوْلَهُ: كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، وَقَالَ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ وَابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، ذوالیدین کھڑے ہو گئے اور عرض کیا: نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی کوئی بات نہیں ہے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی نماز مکمل کی، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ یہ قتیبہ رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ”ایسی کوئی بات نہیں ہے“ ذکر نہیں کیا اور فرمایا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3816]
امام شافعی رحمہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ”ایسی کوئی بات نہیں ہے“ ذکر نہیں کیا اور فرمایا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3816]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 482»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3817
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ فَقَامَ الْخِرْبَاقُ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ، فَنَادَى: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَسَأَلَ، فَأُخْبِرَ، فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةِ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الثَّقَفِيِّ.
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز میں تین رکعتوں پر سلام پھیر دیا، اس کے بعد گھر تشریف لے گئے۔ تو حضرت خرباق رضی اللہ عنہ، جو لمبے ہاتھوں والے آدمی تھے، کھڑے ہوئے اور پکار کر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں چادر گھسیٹتے ہوئے نکل آئے اور لوگوں سے پوچھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رکعت رہ گئی تھی وہ ادا کی۔ پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کر کے دوبارہ سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3817]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 574»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَلَا أَدْرِي أَزَادَ أَمْ نَقَصَ؟ فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا قَالَ: فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُثْبِتْ لَفْظَ التَّسْلِيمِ وَقَدْ أَثْبَتَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ مِنَ الْأَئِمَّةِ، عَنْ هَؤُلَاءِ.
علقمہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ آپ نے نماز میں کوئی اضافہ کیا یا کمی کی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے بتایا: آپ نے اس طرح نماز پڑھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ٹانگوں کو موڑا اور قبلہ رخ ہو گئے اور دو سجدے کیے۔ پھر سلام پھیرا۔ اس کے بعد جب ہماری طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی نیا حکم آجاتا تو میں آپ کو ضرور بتا دیتا، لیکن میں تمہاری طرح بشر ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ میں جب بھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دیا کرو اور جب کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو یقینی بات سوچ لے، پھر اسی پر نماز کو پورا کرے، پھر سلام پھیرے اور سہو کے دو سجدے کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3818]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 401»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3819
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى صَلَاةً فَزَادَ ⦗٤٧٥⦘ أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَإِذَا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَحَفِظَهُ أَيْضًا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَوُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ وَرَوَاهُ مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ وَفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، فَلَمْ يَذْكُرُوا لَفْظَ التَّسْلِيمِ وَكَلِمَةَ التَّحَرِّي وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مِنْهُمُ الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَعْمَشُ فَلَمْ يَذْكُرُوا هَذِهِ اللَّفْظَةَ وَلَا كَلِمَةَ التَّحَرِّي وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ فَلَمْ يَذْكُرْهُمَا، وَهُوَ غَيْرُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ الْفَقِيهِ وَحِفْظِ مَا لَمْ يَحْفَظْهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ فِي غَيْرِ رِوَايَةِ الْحَكَمِ عَنْهُ مِنَ الزِّيَادَةِ أَوِ النُّقْصَانِ، فَقَالَ: صَلَّى خَمْسًا، وَرَوَاهُ الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَوَافَقَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ فِي أَنَّهُ صَلَّى خَمْسًا وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّفْظَتَيْنِ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِخِلَافِ ذَلِكَ فِي السَّلَامِ إِلَّا أَنَّ فِي صِحَّتِهِ نَظَرٌ.
ایک دوسری سند سے جریر رحمہ اللہ اس حدیث کو نقل کرتے ہیں، وہ بھی اسی کی طرح ہے، مگر اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور اس میں کوئی کمی یا زیادتی کی۔ جب سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے، اور اس کے آخر میں یہ کہا: جب وہ سلام پھیر لے تو سہو کے دو سجدے کرے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سلام کے بارے میں اس کے خلاف بھی مروی ہے، لیکن اس کی صحت محل نظر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3819]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سلام کے بارے میں اس کے خلاف بھی مروی ہے، لیکن اس کی صحت محل نظر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3819]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3820
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتَ فِي صَلَاةٍ، فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ، وَأَكْثَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ تَشَهَّدْتَ ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا ثُمَّ تُسَلِّمَ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ خُصَيْفٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَوَافَقَ عَبْدَ الْوَاحِدِ أَيْضًا سُفْيَانُ وَشَرِيكٌ وَإِسْرَائِيلُ وَاخْتَلَفُوا فِي الْكَلَامِ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُسْنِدُوهُ.
ابوعبیدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز پڑھ رہا ہو اور تجھے شک پڑ جائے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار اور تیرا غالب گمان چار کا ہو تو تشہد کے لیے بیٹھ جا، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر، پھر اسی طرح تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے۔“
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالواحد نے بھی اسے خصیف سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر اسے مرفوع بیان نہیں کیا، اور سفیان، شریک اور اسرائیل نے بھی عبدالواحد کی موافقت کی ہے، انہوں نے حدیث کے متن کے الفاظ میں اختلاف کیا ہے اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مسند بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3820]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالواحد نے بھی اسے خصیف سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر اسے مرفوع بیان نہیں کیا، اور سفیان، شریک اور اسرائیل نے بھی عبدالواحد کی موافقت کی ہے، انہوں نے حدیث کے متن کے الفاظ میں اختلاف کیا ہے اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مسند بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3820]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الراجح في الحديث له موقوف»
الحكم على الحديث: ضعيف