🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

786. -- باب: الإمام يسهو فيسجد أو يسجد من خلفه
-- باب: امام بھول جائے تو وہ سجدہ کرے یا اس کے پیچھے والے سجدہ کریں اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3886
لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ.
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے ہے کہ: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا تم اس سے اختلاف نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q3886]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3886
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي ⦗٤٩٦⦘ اثْنَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ السَّلَامِ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ كَمَا مَضَى.
ابن بحینہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد قعدہ کیے بغیر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو دو سجدے کیے اور ہر سجدے میں تکبیر کہتے اور یہ سجدے سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے کیے اور تشہد میں بیٹھنا بھولنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باقی لوگوں نے بھی سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3886]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم كثيرا، وانظر مثلاً، رقم 3813»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں