السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
821. -- باب: طهارة البدن والثوب للصلاة
-- باب: نماز کے لیے بدن اور کپڑے کے پاک ہونے کا بیان
حدیث نمبر: Q4083
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} [المدثر: 4] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قِيلَ: صَلِّ فِي ثِيَابٍ طَاهِرَةٍ، وَقِيلَ غَيْرُ ذَلِكَ، وَالْأَوَّلُ أَشْبَهُ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُغْسَلَ دَمُ الْمَحِيضِ مِنَ الثَّوْبِ.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾ ”اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئے۔“ [سورة المدثر: 4]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایک قول یہ ہے کہ پاک کپڑوں میں نماز پڑھو، اور اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی کہے گئے ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے حیض کا خون دھونے کا حکم دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q4083]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایک قول یہ ہے کہ پاک کپڑوں میں نماز پڑھو، اور اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی کہے گئے ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے حیض کا خون دھونے کا حکم دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q4083]
حدیث نمبر: 4083
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِحْدَانَا يُصِيبُ ثَوْبَهَا مِنْ دَمِ الْحَيْضَةِ فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ:" تَحُتُّهُ، ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ تَنْضَحُهُ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: ہم میں سے کسی کے کپڑوں پر حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کھرچ لے، پھر پانی کے ساتھ صاف کرے، پھر اس پر پانی چھڑک دے اور اس میں نماز پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4083]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ موطأ امام مالك 166»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4084
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ مُحَاضِرُ بْنُ الْمُرَوِّعِ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي مُسْتَحَاضَةٌ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي" أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي الصَّحِيحِ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں استحاضہ والی ہوں اور پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے حیض نہیں ہے، جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب حیض ختم ہوجائے تو اپنے خون کو دھو لے اور نماز پڑھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4084]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 226، مسلم 333»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4085
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ بِطُوسَ وَأَبُو ⦗٥٦٣⦘ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ بِنَيْسَابُورَ قَالَا: ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ:" هُشِّمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللهِ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَجُرِحَ وَجْهُهُ قَالَ أَبُو حَازِمٍ: وَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ عَنْهُ الدَّمَ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِيهَا بِالْمَاءِ فِي مِجَنَّةٍ، فَلَمَّا أَصَابَ الْجُرْحَ الْمَاءُ كَثُرَ دَمُهُ فَلَمْ يَرْقَأِ الدَّمُ حَتَّى أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ وَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا، ثُمَّ جَعَلَتْهُ عَلَى الْجُرْحِ فَرَقَأَ الدَّمُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَسْكَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کا خود توڑ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رباعی دانت شہید ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا۔
(ب) ابو حازم فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون دھو رہی تھیں اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی لا رہے تھے۔ جب زخم کو پانی لگا تو خون رکا نہیں بلکہ زیادہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اس کو جلا کر راکھ بنایا، پھر اس راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر لگایا تو خون رک گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4085]
(ب) ابو حازم فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون دھو رہی تھیں اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی لا رہے تھے۔ جب زخم کو پانی لگا تو خون رکا نہیں بلکہ زیادہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اس کو جلا کر راکھ بنایا، پھر اس راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر لگایا تو خون رک گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4085]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2754، مسلم 1790»
الحكم على الحديث: صحيح