السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
882. -- باب: النهي عن الصلاة في هاتين الساعتين، وحين تقوم الظهيرة حتى تميل
-- باب: ان دونوں اوقات میں اور دوپہر کے وقت جب سورج سر پر ہو یہاں تک کہ وہ ڈھل جائے، نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4382
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ:" ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ، أَوْ نُقْبِرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيفُ الشَّمْسُ إِلَى الْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین اوقات میں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا ہے: ”جب سورج طلوع ہو کر چمک رہا ہو یہاں تک کہ وہ اونچا ہو جائے، اور جس وقت دوپہر ہو جائے یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور جب سورج ڈوبنے کے لیے ڈھلنے لگے یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4382]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 831، ابن حبان 1546»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4383
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٦٣٧⦘ وَهْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" يَنْهَانَا"، وَقَالَ:" الْغُرُوبُ"، وَلَمْ يَقُلْ:" قَائِمُ"، وَقَالَ:" حَتَّى تَمِيلَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4383]
حدیث نمبر: 4384
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ (ح) وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا، ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا" وَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ" كَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: الصَّحِيحُ رِوَايَةُ مَعْمَرٍ وَهُوَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيُّ، وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ.
سیدنا عبد اللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے، جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو شیطان اس سے جدا ہو جاتا ہے، پھر جب نصف النہار ہوتا ہے تو شیطان اس کے ساتھ مل جاتا ہے اور جب سورج زائل ہو جاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے، جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے تو شیطان پھر اس کے ساتھ مل جاتا ہے، جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو اس سے جدا ہو جاتا ہے۔“ ان اوقات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
امام مالک بن انس نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے، اور معمر بن راشد نے اسے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے ابو عبداللہ صنابحی سے روایت کیا ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں: صحیح معمر کی روایت ہے، اور وہ ابو عبداللہ صنابحی ہیں جن کا نام عبدالرحمن بن عسیلہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4384]
امام مالک بن انس نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے، اور معمر بن راشد نے اسے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے ابو عبداللہ صنابحی سے روایت کیا ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں: صحیح معمر کی روایت ہے، اور وہ ابو عبداللہ صنابحی ہیں جن کا نام عبدالرحمن بن عسیلہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4384]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مالك 182»
الحكم على الحديث: ضعيف