السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
901. -- باب: من قال: يصليه متى ذكره
-- باب: اس قول کا بیان کہ جب اسے یاد آئے وہ اسے (وتر کو) پڑھ لے
حدیث نمبر: 4533
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ ⦗٦٧٦⦘ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ، أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّهِ إِذَا أَصْبَحَ، أَوْ ذَكَرَهُ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے وتر سے سو گیا یا اسے بھول گیا تو وہ صبح کے وقت یا جب بھی اسے یاد آئے، اسے پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4533]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 3/31/11284»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4534
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ وَبَرَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَمَّنْ تَرَكَ الْوِتْرَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسَ أَيُصَلِّيهَا؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ تَرَكْتَ صَلَاةَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ هَلْ كُنْتَ تُصَلِّيهَا؟" قَالَ: قُلْتُ: فَمَهْ؟، قَالَ:" فَمَهْ".
وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو وتر طلوعِ شمس تک چھوڑ دیتا ہے کہ کیا وہ اسے پڑھے؟ وہ کہنے لگے: آپ کا خیال ہے کہ اگر آپ صبح کی نماز کو سورج طلوع ہونے تک چھوڑ دیں تو کیا آپ اس کو پڑھیں گے؟ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: تو پھر کیا؟ انہوں نے کہا: تو پھر کیا؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4534]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4535
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَعَلُوا يَنْتَظِرُونَهُ، فَجَاءَ فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أَوتِرُ" وَقَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، هَلْ بَعْدَ الْأَذَانِ وِتْرٌ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، وَبَعْدَ الْإِقَامَةِ" قَالَ: وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى".
ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مسجدِ عمرو بن شرحبیل میں تھے، نماز کے لیے اقامت کہی گئی، لوگ ان کا انتظار کر رہے تھے، وہ آئے تو انھوں نے کہا: ”میں وتر پڑھ رہا تھا۔“ راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا اذان کے بعد وتر ہے؟ تو وہ فرمانے لگے: ”ہاں، اقامت کے بعد بھی۔“ راوی کہتے ہیں: انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوا، پھر آپ بیدار ہوئے اور نماز پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4535]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح