🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

974. -- باب: ما جاء في صلاة التسبيح
-- باب: صلوۃ التسبیح کے بارے میں جو منقول ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4916
حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً عَلَيْنَا مِنْ حِفْظِهِ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقِنْبَارِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ:" يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ، أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَجْزِيكَ، أَلَا أَفْعَلُ لَكَ عَشْرَ خِصَالٍ، إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، عَمْدَهُ وَخَطَأَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرُ خِصَالٍ، أَنْ تُصَلَّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، تَبْدَأُ فَتُكَبِّرُ، ثُمَّ تَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، ثُمَّ تَقُولُ عِنْدَ فَرَاغِكَ مِنَ السُّورَةِ وَأَنْتَ قَائِمٌ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ قَائِمٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ مَرَّةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، وَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، وَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً"..
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! اے چچا! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو دس خوبیاں نہ بتاؤں؟ جب آپ یہ کریں گے تو اللہ آپ کے پہلے اور بعد والے، نئے اور پرانے، جان بوجھ کر کیے ہوئے اور غلطی سے ہو جانے والے، ظاہری اور پوشیدہ تمام گناہ معاف کر دیں گے، وہ دس چیزیں یہ ہیں کہ تو چار رکعات ادا کر اور تکبیر کہہ کر ابتدا کر، پھر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھو، پھر سورت سے فارغ ہونے کے بعد کھڑے ہو کر «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» پندرہ بار پڑھ، پھر رکوع کر اور رکوع کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر رکوع سے سر اٹھا اور کھڑے ہونے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدہ کر اور سجدے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے سے سر اٹھا کر دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے سے سر اٹھا کر دس مرتبہ۔ ہر رکعت میں یہ کل 75 مرتبہ ہو جائے گا۔ اگر تو ہر روز پڑھ سکے تو ایسا کر اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ہر ہفتہ میں، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو مہینہ میں ایک مرتبہ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو سال میں ایک مرتبہ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو عمر میں ایک مرتبہ تو پڑھ ہی لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4916]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 1297»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4917
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ: صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ قَبْلَ قَوْلِهِ: سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، وَكَأَنَّهُ سَقَطَ عَلَيَّ أَوْ عَلَى شَيْخِي فِي الْإِمْلَاءِ..
عبدالرحمن بن بشر بن حکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ ”چھوٹے اور بڑے گناہ بھی“، اس قول سے قبل کہ ”اس کے پوشیدہ اور ظاہری گناہ معاف کیے جائیں گے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4917]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 1297»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4918
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّ رَسُولِ اللهِ، أَلَا أُهْدِي لَكَ"، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ مُرْسَلًا. ⦗٧٤⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْمَشْهُورِينَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.
عکرمہ رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عباس! اے اللہ کے رسول کے چچا! کیا میں تجھے تحفہ نہ دوں؟“
پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث مرسل طور پر ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4918]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4919
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبَى الْجَوْزَاءِ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَرَوْنَ، عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ:" ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَ"، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً قَالَ:" إِذَا زَالَ النَّهَارُ فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ"، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ:" ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ، يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلَا تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا، وَتَحْمَدَ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَ عَشْرًا، وَتُهَلِّلَ عَشْرًا، ثُمَّ تَصْنَعُ ذَلِكَ فِي الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ". قَالَ:" فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ"، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ؟ قَالَ:" صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبَى الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَبُو جَنَابٍ عَنْ أَبَى الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْفُوعًا. غَيْرَ أَنَّهُ جَعَلَ التَّسْبِيحَ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَجَعَلَ مَا بَعْدَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ بَعْدَ الْقِرَاءَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ، عَنْ أَبَى الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ: فَقَالَ حَدِيثَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
ابوالجوزاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک صحابی یعنی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے پاس آنا، میں تجھے ہدیہ دوں گا، میں نے سمجھا وہ مجھے کوئی چیز تحفہ دیں گے۔ میں گیا تو فرمانے لگے: ”جب دن ڈھل جائے تو کھڑا ہو اور چار رکعات پڑھ۔“ اسی کی مثل ذکر کیا۔ ”پھر دوسرے سجدے سے سر اٹھا کر سیدھا بیٹھ جا اور کھڑا نہ ہو یہاں تک کہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ“ دس دس مرتبہ نہ پڑھ لے، پھر چاروں رکعات میں اسی طرح کر۔“
راوی کہتے ہیں: ”اگر تمام لوگوں سے زیادہ تیرے گناہ ہوں گے تو معاف کر دیے جائیں گے۔“ میں نے کہا: اگر میں اس وقت پڑھنے کی طاقت نہ رکھوں؟ انہوں نے فرمایا: ”دن اور رات میں جب چاہے پڑھ لے۔“
(ب) عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں، مگر وہ پندرہ مرتبہ تسبیح کا ذکر قراءت سے پہلے کرتے ہیں اور دوسرے سجدے کے بعد والی تسبیح کو قراءت کے بعد۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4919]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4920
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَعْفَرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، ثُمَّ قَالَ فِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى كَمَا فِي حَدِيثِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ.
انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر رضی اللہ عنہ کو بھی اسی طرح حکم کیا اور فرمایا: ”پہلی رکعت کے دوسرے سجدے میں بھی،“ جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4920]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں