السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
987. -- باب: من خرج يريد الصلاة فسبق بها
-- باب: اس شخص کا بیان جو نماز کے ارادے سے نکلا لیکن جماعت ہو چکی تھی۔
حدیث نمبر: 5010
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَا، ثنا أَبُو عِصْمَةَ سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبُخَارِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ طَحْلَاءَ، عَنْ مِحْصَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا، أَعْطَاهُ اللهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا وَحَضَرَهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَجْرِهِمْ شَيْئًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر وہ چلا اور اس نے لوگوں کو پایا کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے، تو اللہ اس کو اتنا اجر دے گا جتنا نماز پڑھنے اور اس میں حاضر ہونے والوں کو ملتا ہے اور ان کے اجر میں بھی کمی نہ کی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5010]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أبو داؤد 564»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 5011
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: حَضَرَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ الْمَوْتُ فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثَكُمُوهُ إِلَّا احْتِسَابًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمَهُ الْيُمْنَى إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ حَسَنَةً، وَلَمْ يَضَعْ قَدَمَهُ الْيُسْرَى إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ سَيِّئَةً، فَلْيُقَرِّبْ أَوْ لِيُبَعِّدْ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فِي جَمَاعَةٍ غُفِرَ لَهُ، وَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلُّوا بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ صَلَّى مَا أَدْرَكَ وَأَتَمَّ مَا بَقِيَ كَانَ كَذَلِكَ فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلُّوا فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ كَانَ كَذَلِكَ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ کہنے لگا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں اور صرف اللہ سے ثواب کی امید پر بیان کرنے لگا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز کی طرف نکلے تو جب وہ اپنا دایاں قدم اٹھاتا ہے تو اس کے عوض اللہ تعالیٰ نیکی لکھ دیتے ہیں اور جب بایاں قدم رکھتا ہے تو اس کے بدلے ایک برائی ختم کر دی جاتی ہے، اگرچہ وہ قدم قریب قریب رکھے یا دور دور؛ اور اگر وہ مسجد میں آ کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے تو اس کو معاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ مسجد آتا ہے اور کچھ حصہ نماز کا پڑھا جا چکا اور کچھ باقی تھا، پھر اس نے جتنی نماز پائی پڑھ لی اور باقی پوری کر لی تو وہ انہی کی طرح ہے، اور اگر وہ مسجد آتا ہے اور انہوں نے نماز پڑھ لی ہے اور وہ اپنی نماز پوری کر لیتا ہے تو وہ بھی اسی طرح ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5011]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أبو داؤد 563»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ