🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

999. -- باب: ما روي في النهي عن الإمامة جالسا، وبيان ضعفه
-- باب: بیٹھ کر امامت کروانے کی ممانعت میں مروی روایات اور ان کے ضعیف ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5076
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ عَلِمَ الَّذِي احْتَجَّ بِهَذَا أَنْ لَيْسَتْ فِيهِ حُجَّةٌ، وَأَنَّهُ لَا يُثْبَتُ لِأَنَّهُ مُرْسَلٌ، وَلِأَنَّهُ عَنْ رَجُلٍ يَرْغَبُ النَّاسُ عَنِ الرِّوَايَةِ عَنْهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس شخص نے اس (روایت) سے دلیل پکڑی ہے وہ جانتا ہے کہ اس میں کوئی دلیل نہیں اور یہ ثابت نہیں، کیونکہ یہ مرسل ہے اور اس لیے بھی کہ یہ ایک ایسے شخص سے مروی ہے جس سے روایت لینے سے لوگ گریز کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5076]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5077
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: بَلَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ قَدْ نَقَلْنَاهُ فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، إِلَى أَنْ قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا: يَا عُمَرُ، صَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَ عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَفَعَلَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ، وَقَالَ لَهُمَا:" أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ" فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَجَعَلَ أَبُو ⦗١١٥⦘ بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ". قَالَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هَاتِ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الْآخَرَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ؟ فَقُلْتُ: لَا قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ خَلْفَهُ، وَحُسْنُ سِيَاقِ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ لِلْحَدِيثِ يَدُلُّ عَلَى حِفْظِهِ، وَأَنَّ غَيْرَهُ لَمْ يَحْفَظْهُ حِفْظَهُ، وَلِذَلِكَ ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابَيْهِمَا، دُونَ رِوَايَةِ مَنْ خَالَفَهُ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، میں نے کہا: کیا آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بیان کریں گی؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں! پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ قاصد آیا اور اس نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، جو نرم دل تھے، کہا: ”اے عمر! لوگوں کو نماز پڑھا دو۔“ انہوں نے فرمایا: ”آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان ایام میں لوگوں کی امامت کروائی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ راحت محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے نماز ظہر کے لیے تشریف لائے، ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ ”پیچھے نہ ہٹیں“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے کہا: ”مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو۔“ تو ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا۔ وہ فرماتی ہیں کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔
عبیداللہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے کہا: میں آپ کے سامنے وہ بیان کروں جو عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق بیان کیا؟ انہوں نے فرمایا: ”بیان کرو۔“ میں نے ان کے سامنے بیان کیا، انہوں نے اس میں سے کچھ بھی انکار نہیں کیا۔ لیکن یہ پوچھا: ”کیا انہوں نے عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسرے آدمی کا تذکرہ کیا؟“ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5077]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 655»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں