🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1012. -- باب:: لا يأتم مسلم بكافر
-- باب: اس بیان میں کہ ”کوئی مسلمان کسی کافر کی اقتدا نہ کرے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5141
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ"، وَلَمْ تَكُنْ صَلَاةُ الْكَافِرِ إِسْلَامًا مِنْهُ إِذَا لَمْ يَتَكَلَّمْ بِالْإِسْلَامِ قَبْلَ الصَّلَاةِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کا سب سے زیادہ قاری ہو۔“
اور کسی کافر کا نماز پڑھ لینا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ نماز سے پہلے زبانی طور پر اسلام کا اقرار نہ کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q5141]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5141
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ الْمِسْمَعِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑوں جب تک وہ یہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔ جب انہوں نے یہ کام کیے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5141]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5142
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَصَلُّوا صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، حُرِّمَتْ عَلَيْنَا أَمْوَالُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُ مَا لِلْمُسْلِمِ، وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسْلِمِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے میں مشرکین سے لڑائی کروں۔ یہاں تک وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جب انہوں نے گواہی دے دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور انہوں نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو ان کے مال اور خون ہمارے اوپر حرام ہیں مگر حق کی وجہ سے۔ اس کے لیے بھی وہی احکام ہیں جو مسلمان کے لیے، اس پر بھی وہی ہے جو کسی مسلمان پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5142]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5143
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ قَالَ:" مَعَكَ مَاءٌ؟" فَأَتَيْتُهُ بِمَطْهَرَةٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنَ الْجُبَّةِ وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ، وَعَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاةِ فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقْنَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، هَكَذَا رَوَاهُ مُسَدَّدٌ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَجَمَاعَةٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ.
عروہ بن مغیرہ بن شعبہ اپنے والد سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ضرورت پوری کر لی تو فرمایا: ”تیرے پاس پانی ہے؟“ میں پانی کا برتن لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازوؤں سے جبہ اتارنے لگے لیکن جبے کی آستین تنگ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ جبے سے نکال لیا اور جبے کو کندھوں پر ڈال لیا، بازو دھوئے، پھر پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے تو میں بھی سوار ہوا اور ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے جو نماز پڑھ رہے تھے، ان کو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ ایک رکعت ہو چکی تھی، جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا تو انہوں نے ہی نماز پڑھائی۔ جب سلام پھیرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میں بھی کھڑا ہو گیا اور وہ رکعت ادا کی جو ہم سے رہ گئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5143]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 274»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں